امریکا ایران جنگ کے فیصلے کا آج اہم دن ، جنگ جاری رہے گی یا رکے گی؟ امریکی کانگریس آج فیصلہ کریگی

امریکا ایران جنگ کے فیصلے کا آج اہم دن ، جنگ جاری رہے گی یا رکے گی؟ امریکی کانگریس آج فیصلہ کریگی

امریکا میں آج ایران کے ساتھ ممکنہ جنگی کارروائی کے مستقبل سے متعلق ایک اہم سیاسی اور آئینی مرحلہ سامنے آ گیا ہے۔ وار پاورز ایکٹ کے تحت صدر کو کسی بھی مسلح تنازع کے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینا ہوتی ہے اور ایران کے ساتھ 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں یہ مدت آج مکمل ہو رہی ہے۔ 

واشنگٹن میں آج کی سیاسی پیش رفت کو فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا امریکا ایران کے خلاف مزید جنگی راستہ اختیار کرے گا موجودہ جنگ بندی برقرار رہے گی یا نئی حکمت عملی سامنے آئے گی۔ کانگریس وائٹ ہاؤس اور امریکی سیاسی حلقوں کی نظریں اسی فیصلے پر مرکوز ہیں کیونکہ یہ نہ صرف ایران امریکا تعلقات بلکہ خطے کے وسیع تر امن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس قیادت کو ارسال کردہ خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی عملاً ختم ہو چکی ہے اس لیے نئی منظوری کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں بڑا فضائی بحران پیدا ہوگیا، بڑی ایئرلائن دیوالیہ ، تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں

ٹرمپ کے مطابق 7 اپریل سے نافذ جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہ راست جھڑپ نہیں ہوئی لہٰذا فعال جنگی مرحلہ ختم سمجھا جانا چاہیے۔ تاہم انہوں نے ساتھ یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ تنازع مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور مستقبل میں صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس اسی مؤقف کو بنیاد بنا کر کہہ رہا ہے کہ صدر کے اختیارات بدستور برقرار ہیں جبکہ ناقدین کے مطابق یہ آئینی بحث کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

اگر کانگریس کسی نئی جنگی کارروائی یا صدر کے اختیارات میں توسیع کی حمایت کرتی ہے تو امریکا ایران کشیدگی دوبارہ عسکری رخ اختیار کر سکتی ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں تناؤ، عالمی تیل منڈی میں بے یقینی اور امریکی دفاعی اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کانگریس جنگی اختیار محدود کرتی ہے یا نئی کارروائی کی حمایت نہیں کرتی تو سفارتی حل جنگ بندی کے استحکام، اور خطے میں وقتی سکون کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

 ایسی صورت میں صدر اور کانگریس کے درمیان اختیارات کی کشمکش بھی شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق آج کا فیصلہ صرف ایران پالیسی نہیں بلکہ امریکی آئینی طاقت، عالمی سفارت کاری اور خطے کے مستقبل کے لیے بھی دور رس اثرات رکھتا ہے۔

editor

Related Articles