امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ صورتحال اور جنگ کے بعد تیل کی قیمتیں کم سطح پر آنی چاہییں، ان کا کہنا تھا کہ فیوچر مارکیٹ کے رجحانات بھی یہی ظاہر کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں تیل سستا ہو سکتا ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر ٹول کی صورت میں زیادہ آمدنی حاصل نہیں ہوتی اور مستقبل قریب میں اس راستے سے جہازوں کی آمد و رفت میں مزید اضافہ متوقع ہے، جو عالمی سپلائی چین پر اثر ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی توانائی تنظیم اوپیک پلس کے اجلاس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سات رکن ممالک نے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہےمتحدہ عرب امارات کی علیحدگی کے بعد ہونے والے اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مجموعی پیداوار میں یومیہ ایک لاکھ اٹھاسی ہزار بیرل اضافہ کیا جائے گامعاہدے کے مطابق تیل کی پیداوار میں اضافے کا اطلاق آئندہ ماہ یعنی جون سے ہوگا۔
اگر پیداوار میں یہ اضافہ برقرار رہتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا رجحان دیکھنے کو مل سکتا ہے جو درآمدی ممالک کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتا ہے ۔