روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ رکھنے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے روشن اپنی کار اسکیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جس کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو آسان اور سہل شرائط پر گاڑی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا آغاز اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مختلف بینکوں کے تعاون سے کیا ہے تاکہ بیرون ملک مقیم افراد اپنے وطن میں موجود اہل خانہ کے لیے کم لاگت اور آسان اقساط پر گاڑی حاصل کر سکیں۔
اس اسکیم کے تحت روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ رکھنے والے پاکستانی مکمل طور پر آن لائن درخواست دے سکتے ہیں جس کے لیے کسی بھی قسم کی کاغذی کارروائی یا دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رکھی گئی ہے تمام عمل کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مکمل کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور رفتار دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق درخواست جمع ہونے کے بعد قرض کی منظوری کا عمل انتہائی تیز رکھا گیا ہے اور صرف 4 دن کے اندر قرض کی منظوری ممکن ہوگی جس سے یہ اسکیم مارکیٹ میں موجود دیگر مالی سہولیات کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور تیز رفتار ثابت ہوگی مزید یہ کہ گاڑی کی فراہمی بھی عام طریقہ کار کے مقابلے میں پچاس فیصد کم وقت میں ممکن ہو سکے گیاس اسکیم میں دو اقسام کے فنانسنگ ماڈل پیش کیے گئے ہیں جن میں فلوٹنگ ریٹ اور فکسڈ ریٹ شامل ہیں فلوٹنگ ریٹ کے تحت شرح سود وقت کے ساتھ مارکیٹ کے حالات کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
اگر درخواست گزار کے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ یا نیا پاکستان سرٹیفکیٹ میں رقم موجود ہو اور اسے ضمانت کے طور پر استعمال کیا جائے تو اسٹیٹ بینک کے بنیادی ریٹ پر صرف ایک فیصد اضافی شرح کے ساتھ قرض فراہم کیا جائے گا جبکہ بغیر ضمانت کے صورت میں کائبور کی چھ ماہ کی شرح پر صرف ایک فیصد اضافی شرح لاگو ہوگی۔
دوسری جانب فکسڈ ریٹ کے تحت قرض کی شرح سود پورے دورانیے کے لیے ایک ہی رہتی ہے جو بینک اپنے انتظامی اخراجات یا پاکستان ری ویلیو ایشن کی بنیاد پر طے کرتے ہیں اور ایک بار شرح مقرر ہونے کے بعد وہی شرح مکمل مدت تک برقرار رہتی ہے۔
یہ اسکیم اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک اہم سہولت قرار دی جا رہی ہے جس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کر سکیں گے بلکہ ملک کی مالی سرگرمیوں میں بھی مثبت کردار ادا کر سکیں گے۔