اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے دونوں رہنمائوں میں ٹیلیفونک رابطہ ہوئے اور ایران میں جاری تنازع اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تاجانی نے کہا کہ گفتگو کے دوران سفارتی ذرائع کو فعال بنانے اور بات چیت کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا،ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سنجیدہ اور مربوط کوششیں وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی خاص طور پر بات کی اور کہا کہ اس اہم گزرگاہ کی بندش عالمی سطح پر خوراک کی ترسیل اور معاشی استحکام پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، تاجانی کا کہنا ہے کہ اس راستے کو کھلا رکھنا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔
اٹلی کے وزیر خارجہ نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف کارروائیوں سے باز رکھنے میں کردار ادا کرے اور لبنان میں امن کے قیام کے لیے مذاکراتی عمل کو فروغ دے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اٹلی خطے میں امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا حصہ بنا رہے گا، مکالمے کے دروازے کھلے رکھے گا اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔