ایران پر دبائو مزید بڑھنے لگا ،جرمنی نے بھی بڑا مطالبہ کر دیا

ایران پر دبائو مزید بڑھنے لگا ،جرمنی نے بھی بڑا مطالبہ کر دیا

جرمنی نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے اور تہران اپنا جوہری پروگرام ختم کرے۔

جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈیفل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ایرانی ہم منصب سے بات کی ہے اور اس دوران واضح طور پر کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے اور ایران اپنے جوہری پروگرام سے مکمل طور پر دستبردار ہو۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے قریبی اتحادی کے طور پر جرمنی کا بھی یہی مؤقف ہے کہ ایران مکمل اور قابلِ تصدیق طور پر جوہری ہتھیاروں سے دور رہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے جیسا کہ امریکی وزیر خارجہ نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ڈونلڈ ٹرمپ کا آج سےآبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان

جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ جرمنی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو ایران کے معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور جنگی صورتحال پر ان کے کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل اور توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ خطے میں ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث اس گزرگاہ کی صورتحال کئی بار عالمی تشویش کا باعث بنتی رہی ہے۔ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کی بندش یا رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے، اسی وجہ سے جرمنی سمیت کئی ممالک اس معاملے پر سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔

editor

Related Articles