اب پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں؟ حیران کن جیکٹ متعارف

اب پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں؟ حیران کن جیکٹ متعارف

امریکا کی یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن کے انجینئرز نے ایک ایسی جدید جیکٹ تیار کی ہے جو ہوا میں موجود نمی کو جذب کرکے اسے پینے کے صاف پانی میں تبدیل کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق نمی کی مقدار کے لحاظ سے یہ پہننے کے قابل نظام روزانہ تقریباً 400 سے 900 ملی لیٹر تک پانی پیدا کر سکتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے ہائیکرز، کیمپرز، رنرز، کسانوں، امدادی کارکنوں اور فوجی اہلکاروں کو ان علاقوں میں فائدہ پہنچ سکتا ہے جہاں صاف پانی تک رسائی محدود ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :اب چھاتا خود آپ کے سر پر منڈلائے گا، منفرد ایجاد سامنے آگئی

عام طور پر ہوا سے پانی حاصل کرنے والے نظام بڑے پینلز، بکسوں یا نمی جذب کرنے والے مواد پر مشتمل ہوتے ہیں، تاہم امریکی محققین نے پہلی بار اس ٹیکنالوجی کو کپڑے میں شامل کرکے اسے قابلِ استعمال جیکٹ کی شکل دی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور کاکریل اسکول آف انجینئرنگ کے پروفیسر گوئی ہوا یو کے مطابق ان کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو لیبارٹری اور بڑے آلات تک محدود رکھنے کے بجائے روزمرہ استعمال کے قابل بنانا تھا، تاکہ لوگ جہاں بھی ہوں، وہاں ہوا سے پانی حاصل کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:زمین کے لیے خطرہ بننے والے سیارچے سے نمٹنے کا مؤثر حل سامنے آگیا

جیکٹ کیسے کام کرتی ہے؟

جیکٹ میں ایک خصوصی کپڑا استعمال کیا گیا ہے جو فضا سے نمی جذب کرتا ہے اور اسے الگ کیے جا سکنے والے چھوٹے یونٹس میں منتقل کر دیتا ہے۔بعد ازاں یہ یونٹس ایک فولڈ ہونے والے کلیکٹر میں رکھے جاتے ہیں، جہاں ہلکی حرارت دینے پر جذب شدہ نمی خارج ہوتی ہے، جو ٹھنڈی ہو کر پانی کی صورت میں جمع ہو جاتی ہے۔

تحقیق کے دوران تیار کیے گئے پروٹوٹائپ نے مختلف موسمی حالات میں روزانہ 400 سے 900 ملی لیٹر تک پینے کا پانی حاصل کرکے دکھایا۔

روایتی نظام سے زیادہ مؤثر

محققین کے مطابق اس جیکٹ میں استعمال ہونے والا کپڑا روایتی ہوا سے پانی حاصل کرنے والے مواد کے مقابلے میں 3 سے 10 گنا بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔اس کامیابی کی وجہ صرف زیادہ نمی جذب کرنا نہیں بلکہ ایسا منفرد نظام ہے جو پانی کے بخارات کو مؤثر انداز میں کپڑے کے ریشوں کے ذریعے منتقل کرکے مائع پانی میں تبدیل کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیلی کام ٹاورز پر سولر سسٹم لازمی کرنے کی تجویز سامنے آگئی

مستقبل میں کن جگہوں پر استعمال ہوگی؟

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہی ٹیکنالوجی مستقبل میں بیگ، خیموں، ایمرجنسی شیلٹرز اور دیگر آؤٹ ڈور سامان میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ نظام قدرتی آفات، دور دراز علاقوں، خشک موسم والے خطوں اور ان ممالک میں انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے جہاں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :گیمنگ انڈسٹری میں پاکستان کے لیے نئی امید، نوجوان کا بڑا کارنامہ

اسی تحقیقی ٹیم نے ہوا سے پانی حاصل کرنے کا ایک الگ نظام بھی تیار کیا ہے، جس نے فیلڈ ٹیسٹنگ کے دوران نمایاں کامیابی حاصل کی۔یہ نظام نیومیکسیکو کے صحرائے چی ہواہوان اور ٹیکساس میں آزمایا گیا، جہاں اس نے روزانہ تقریباً 1.3 لیٹر صاف پانی حاصل کیا۔

ریسرچرز کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی سے چلنے والا یہ نظام مستقبل میں شمالی افریقا، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقا جیسے پانی کی قلت کے شکار علاقوں میں پینے کے پانی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

editor

Related Articles