کینیڈا کے ایک انجینئر نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسا خودمختار اڑنے والا چھاتا تیار کیا ہے، جو صارف کے ہاتھ میں پکڑے بغیر اس کے سر کے اوپر منڈلاتا رہتا ہے اور چلتے ہوئے خود بخود اس کے پیچھے چلتا ہے۔
یہ منفرد پروٹوٹائپ کینیڈین ڈیزائنر اور انجینئر جان تسی نے تیار کیا ہے، جو یوٹیوب پر’’آئی بلڈ سٹف‘‘ کے نام سے معروف چینل چلاتے ہیں۔ ان کی اس ایجاد نے سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
جان تسی کے مطابق یہ اڑنے والا چھاتا ایک خصوصی ڈرون پلیٹ فارم، ٹائم آف فلائٹ ڈیپتھ کیمرے، آن بورڈ کمپیوٹنگ سسٹم اور خودمختار پرواز کے جدید سافٹ ویئر پر مشتمل ہے۔
اس کی ڈیمونسٹریشن ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چھاتا مسلسل صارف کی حرکات پر نظر رکھتا ہے اور جیسے ہی وہ چلتا ہے، یہ خودکار انداز میں اپنی پوزیشن تبدیل کرتے ہوئے اس کے سر کے اوپر موجود رہتا ہے، جس سے بارش یا دھوپ میں ہاتھ استعمال کیے بغیر تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انجینئر کے مطابق اس منصوبے کو موجودہ شکل تک پہنچانے کے لیے کئی مختلف ماڈلز تیار کیے گئے اور متعدد تکنیکی تبدیلیاں کی گئیں، جس کے بعد یہ نظام مطلوبہ انداز میں کام کرنے کے قابل ہوا۔
تاہم جان تسی نے واضح کیا ہے کہ یہ فی الحال ایک تجرباتی منصوبہ ہے اور تجارتی فروخت کے لیے دستیاب نہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس میں ابھی بھی بیٹری لائف، تیز ہوا میں استحکام اور حفاظتی پہلوؤں سے متعلق کئی خامیاں موجود ہیں، جنہیں بہتر بنانے پر مزید کام کیا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود ایک عام چھاتے کو جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے خودکار انداز میں اڑنے والی مشین میں تبدیل کرنا اس منصوبے کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایجاد انٹرنیٹ پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔