فیفا ورلڈ کپ 2026 جہاں ایک طرف میدان کے اندر گولز کے نئے اور حیران کن ریکارڈز کے باعث سرخیوں میں ہے، وہاں آف دی فیلڈ (میدان سے باہر) بھی ایک انتہائی اہم اور تاریخی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن (فیفا) نے مسلمان کھلاڑیوں کے مذہبی جذبات، ثقافت اور عقائد کا مروجہ احترام کرتے ہوئے ’مین آف دی میچ‘ (پلیئر آف دی میچ) کی آفیشل ٹرافی کے ڈیزائن میں نمایاں تبدیلی کر دی ہے۔
اب مسلم فٹ بالرز کو دی جانے والی ٹرافیوں سے ٹورنامنٹ کے باقاعدہ اسپانسر اور شراب بنانے والی معروف عالمی کمپنی کا لوگو مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔
ان وائرل تصاویر میں مصر کے اسٹار فٹ بالر محمد صلاح اور ارجنٹائن کے لیجنڈری کھلاڑی لیونل میسی کو ملنے والی ٹرافیوں کا واضح اور نمایاں فرق دیکھا جا سکتا ہے۔
لیونل میسی کو ملنے والی ٹرافی پر الکوحل برانڈ کا لوگو واضح طور پر کندہ ہے، جبکہ محمد صلاح کو دی جانے والی ٹرافی کا ڈیزائن بالکل سادہ اور اس برانڈ کے نشان سے پاک ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مسلم کھلاڑیوں کے عقائد کو متبادل ڈیزائن کے ذریعے خصوصی تحفظ دیا گیا ہے۔
مسلم فٹ بالرز کے مذہبی عقائد کا احترام
فٹ بال کی عالمی باڈی کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کھیل کی دنیا اب تنوع اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے تحفظات کو سنجیدگی سے تسلیم کر رہی ہے۔
اسلام میں الکوحل یا شراب کی تشہیر اور اس کے استعمال کی سختی سے ممانعت ہے، اور ماضی میں بھی کئی مسلم کھلاڑیوں نے ایسی کمپنیوں کے لوگوز والی ٹرافیوں کے ساتھ پوز دینے یا انہیں وصول کرنے سے معذرت کی تھی۔
فیفا نے اس حساسیت کو سمجھتے ہوئے باقاعدہ پالیسی کے تحت مسلم کھلاڑیوں کے لیے الگ ٹرافیوں کا انتظام کیا ہے۔
فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ میں الکوحل برانڈز اور مسلم کھلاڑیوں کے درمیان یہ تنازع نیا نہیں ہے۔ ماضی کے ورلڈ کپ مقابلوں اور یورپی لیگز (جیسے انگلش پریمیئر لیگ یا چیمپئنز لیگ) میں بھی یہ مسئلہ سامنے آتا رہا ہے۔
فرانس کے کریم بینزیما، پال پوگبا اور سینیگال کے سادیو مانے جیسے نامور مسلم کھلاڑی ماضی میں الکوحل برانڈز کی اسپانسر شدہ ٹرافیاں وصول کرنے یا شراب کی بوتلیں اپنے سامنے رکھنے سے انکار کر چکے ہیں۔
یورپی فٹ بال ایسوسی ایشنز نے پہلے ہی مسلم کھلاڑیوں کو میچ کے بعد شیمپین کی بوتلیں نہ دینے کی پالیسی بنائی تھی، اور اب فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے سب سے بڑے اسٹیج پر آفیشل ٹرافی کا متبادل ڈیزائن متعارف کرا کے اس روایت کو باقاعدہ بین الاقوامی قانون کی شکل دے دی ہے۔