ایک سے زائد سنگل اور تھری فیز میٹرز استعمال کرنے والے لیسکو صارفین کے بجلی بلوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ تمام کنکشنز پر فکسڈ چارجز کا نفاذ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے گھریلو اور کمرشل دونوں نوعیت کے صارفین کو متاثر کیا ہے، نئی پالیسی کے مطابق ہر میٹر پر الگ سے فکسڈ چارجز لاگو کیے گئے ہیں، چاہے بجلی کا استعمال کم ہی کیوں نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق تھری فیز اور سنگل فیز میٹرز پر منظور شدہ لوڈ کے حساب سے فکسڈ چارجز عائد کیے گئے ہیں، جبکہ کئی صارفین پر ایم ڈی آئی کی بنیاد پر بھی اضافی چارجز نافذ کیے گئے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث ایسے صارفین کے ماہانہ بلوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جنہوں نے مختلف مقاصد یا سلیب ریٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک سے زائد میٹرز نصب کروا رکھے تھے۔
متعدد صارفین نے ماضی میں بجلی کے زیادہ نرخوں سے بچنے اور پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں رہنے کے لیے اضافی سنگل یا تھری فیز میٹرز لگوائے تھے تاکہ بجلی کا استعمال مختلف کنکشنز میں تقسیم ہو سکے۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے ہر کنکشن پر فکسڈ چارجز نافذ ہونے کے بعد یہ حکمت عملی صارفین کے لیے مزید مہنگی ثابت ہونے لگی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسز سے پریشان ہیں، جبکہ اب ہر میٹر پر الگ فکسڈ چارجز کی وصولی نے ان کے مالی بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت تمام کنکشن ہولڈرز کو ہر ماہ اپنے ہر میٹر کے لیے فکسڈ چارجز ادا کرنا ہوں گے، چاہے بجلی کا استعمال محدود ہی کیوں نہ ہو۔ اس اقدام پر شہری حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔