پاکستانی فنکارہ، ڈانسر اور سماجی کارکن شیمہ کرمانی کے ساتھ کراچی پریس کلب کے باہر پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس کے بعد شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
شیمہ کرمانی گزشتہ کئی دہائیوں سے تحریک نسواں کے ساتھ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ وہ اور عورت مارچ کی دیگر منتظمین 10 مئی کو احتجاج کی تیاری کر رہی تھیں، جو کہ مدرز ڈے بھی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ کراچی پریس کلب میں احتجاج کے سلسلے میں موجود تھیں جہاں ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا تھا۔ اسی دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ صورتحال کشیدہ ہو گئی اور انہیں روکنے کی کوشش کی گئی۔
وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں دھکے دیے گئے اور حراست میں لیا گیا۔ شیمہ کرمانی نے بعد میں میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ انہیں گھسیٹا گیا، ان کی ساڑھی پھٹ گئی اور انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
شیما کرمانی کے مطابق وہ ایک پرامن احتجاج کے لیے موجود تھیں اور صرف این او سی کا مطالبہ کر رہی تھیں، جو تاحال جاری نہیں کیا گیا۔واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شیمہ کرمانی کے حق میں حمایت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اداکارہ بشریٰ انصاری نے کہا کہ یہ واقعہ افسوسناک ہے، جبکہ فاضلہ قاضی سمیت دیگر شخصیات نے بھی اس پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
صارفین کی بڑی تعداد اس واقعے کو قابلِ مذمت قرار دے رہی ہے اور شیمہ کرمانی کے ساتھ پیش آنے والے سلوک پر سوالات اٹھا رہی ہے۔