امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک تاریخی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جس کے تحت خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
اس سلسلے میں ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر ثالثوں کو آج حتمی جواب دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان مثبت اشاروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات درست سمت میں بڑھ رہے ہیں اور یہ کشیدگی جلد ختم ہو سکتی ہے۔
ایران کا جواب اور پاکستان کا کردار
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امریکی تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
انہوں نے ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنا مؤقف واضح کرنے کے بعد پاکستان کو بھی اس سے آگاہ کرے گا، جو خطے میں سفارتی استحکام کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت مگر پرامید لہجہ
امریکی صدر نے اپنی جماعت کے حامیوں سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے مذاکرات انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کسی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ٹرمپ نے بڑا دعویٰ کیا کہ معاہدے کے تحت امریکا، ایران سے ’افزودہ یورینیم‘ حاصل کرنے جا رہا ہے۔ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ اہم بحری گزرگاہ ایران سمیت تمام ممالک کی تجارت کے لیے کھول دی جائے گی۔
صدر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو اس کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے جائیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور امریکی دباؤ
گزشتہ چند ماہ سے امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اور سفارتی تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی کے تحت ایران کی اقتصادی شہ رگ کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی تھی۔ حالیہ مذاکرات اسی کشیدگی کو ایک مستقل حل کی طرف لے جانے کی کوشش ہیں۔
’پاکستان کا ذکر‘ اور ’یورینیم کی منتقلی‘
اس صورتحال کا گہرا تجزیہ چند اہم پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہےکہ ایرانی ترجمان کا یہ کہنا کہ وہ پاکستان کو اعتماد میں لیں گے، ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد اس پسِ پردہ ڈپلومیسی میں ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اگر امریکا ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بہت بڑی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہوگی، جو ایران کے جوہری پروگرام کو غیر مسلح کرنے کے مترادف ہے۔
ترغیب اور دھمکی ٹرمپ نے ایک طرف آبنائے ہرمز کھولنے کی ترغیب دی ہے اور دوسری طرف بڑے حملے کی دھمکی، یہ ان کا روایتی کاروباری اور سیاسی انداز ہے تاکہ ایران کو ‘ڈیل’ پر مجبور کیا جا سکے۔
آبنائے ہرمز کے کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں فوری کمی متوقع ہے، جو عالمی معیشت کے لیے آکسیجن کا کام کرے گی۔