پنجاب حکومت نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے پندرہ سال بعد سیاحتی مقام مری میں خیبرپختونخوا حکومت کی 19 کنال اراضی پر دعویداری کردی، تاہم وفاق کی بین الصوبائی رابطہ وزارت (آئی پی سی) نے موقف سننے کے بعد پنجاب کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اس مسئلے کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں اٹھائے یا اس کے لیے آئینی عدالت سے رجوع کرے۔
موجودہ دستاویزات کے مطابق پاکستان فارسٹ انسٹیٹیوٹ (پی ایف آئی) 1947 میں پشاور میں قائم ہوا، جو پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد انسٹیٹیوٹ تھا اور وزارتِ ماحولیات کا اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹ رہا۔
1970 میں مری کے علاقے پی سی بھوربن سے ملحقہ 19 کنال 2 مرلے اراضی پر اس کا فیلڈ سٹیشن تعمیر کیا گیا، جہاں دفاتر، ٹریننگ ہال اور ہاسٹل موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کے علاقے کاریاں میں بھی تقریباً 20 کنال اراضی موجود ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈی آئی خان، گلیات اور ضلع مانسہرہ کے علاقے شنکیاری میں بھی اس کے فیلڈ کیمپس قائم ہیں۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد کابینہ ڈویژن نے 29 جون 2011 کو پی ایف آئی کی منتقلی کا اعلامیہ جاری کیا، تاہم اعلامیے کے تحت انسٹیٹیوٹ کے تمام اثاثہ جات بھی خیبرپختونخوا حکومت کو منتقل ہوگئے۔ بعد ازاں 13 اگست 2011 کو محکمہ اسٹیبلشمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریشن خیبرپختونخوا نے پی ایف آئی کو صوبائی محکمہ ماحولیات (موجودہ محکمہ فارسٹ) کا اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹ قرار دینے کا اعلامیہ جاری کیا۔
پی ایف آئی کے ڈائریکٹر جنرل منظور احمد کے مطابق انسٹیٹیوٹ بی ایس فارسٹری کی ڈگری آفر کرتا ہے اور ملک کے تمام صوبوں کے طلبہ کے لیے اس میں کوٹہ مختص ہے۔
ان کے مطابق مذکورہ ڈگری کا 40 فیصد حصہ سٹڈی ریسرچ پر مشتمل ہے اور طلبہ کو مختلف ماحولیاتی علاقوں میں تربیت دینا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کا واحد تعلیمی ادارہ تھا، تاہم 2022 میں پنجاب حکومت نے اپنا علیحدہ تعلیمی ادارہ قائم کرلیا۔
پنجاب فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی کنزرویٹر مری فارسٹ ڈویژن عامر امتیاز نے 14 اپریل 2026 کو مذکورہ فیلڈ سٹیشن کا دورہ کرکے تین دن کے اندر جگہ خالی کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ اگر خود خالی نہ کیا گیا تو زبردستی خالی کرایا جائے گا۔
بعد ازاں 17 اور 24 اپریل کو بھی جاکر اسی نوعیت کی دھمکیاں دی گئیں، جس کے بعد محکمہ فارسٹ نے درجنوں ملازمین کو مذکورہ سٹیشن میں تعینات کرکے کسی بھی صورت جگہ خالی نہ کرنے کے احکامات جاری کردیے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ سٹیشن پی سی بھوربن ہوٹل کے ساتھ ملحق ہونے کی وجہ سے اس کی اراضی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، تاہم صوبائی حکومت کسی بھی صورت اسے واگزار کرانے کے موڈ میں نہیں۔ بلکہ بھوربن سٹیشن میں تعینات ملازمین کو یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر معاملہ لڑائی تک بھی پہنچے تو اس سے دریغ نہ کیا جائے۔
صوبائی حکومت نے اس صورتحال سے وفاق کو آگاہ کیا، جس پر 7 مئی 2026 کو آئی پی سی نے پنجاب کے سیکرٹری فارسٹ اور خیبرپختونخوا محکمہ فارسٹ کے افسران کو طلب کیا۔
میٹنگ میں موجود ڈی جی پی ایف آئی منظور احمد کے مطابق مذکورہ سٹیشن بدستور خیبرپختونخوا حکومت کے زیرِ انتظام رہے گا، جبکہ پنجاب حکومت اس معاملے پر سی سی آئی یا آئینی عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔