سعودی عرب کا چھوٹے کاروبار، پاکستانیوں سمیت غیر ملکی ملازمین کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان

سعودی عرب کا چھوٹے کاروبار، پاکستانیوں سمیت غیر ملکی ملازمین کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان

سعودی حکومت نے مملکت میں نجی شعبے کی ترقی اور کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے کے لیے سال 2026 کے دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے لیے ایک انقلابی سہولت کا اعلان کیا ہے۔

نئے شاہی فرمان کے تحت مخصوص شرائط پوری کرنے والے اداروں کو اپنے غیر ملکی ملازمین کی ’مکتبِ عمل‘ (لیبر آفس فیس) میں بڑی رعایت اور مخصوص حالات میں مکمل معافی دی جائے گی۔

فیس معافی کی شرائط اور طریقہ کار

جاری کردہ نوٹ کے مطابق اس سہولت کا مقصد چھوٹے کاروباروں پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔ فیس معافی کا طریقہ کارمیں اگر کسی ادارے میں ملازمین کی کل تعداد 9 یا اس سے کم ہو، تو وہ اس رعایت کے حقدار بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور سعودی عرب میں توانائی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

اگر کفیل خود جنرل سوشل انشورنس ادارے (جی او ایس آئی) میں رجسٹرڈ ہو اور کسی دوسری جگہ ملازمت نہ کرتا ہو، تو اسے 2 غیر ملکی ملازمین کی فیس سے مکمل استثنیٰ ملے گا۔

اگر ادارے میں کم از کم 1 سعودی ملازم بھی رجسٹرڈ ہو، تو فیس سے مستثنیٰ غیر ملکی ملازمین کی تعداد بڑھا کر 4 کر دی جائے گی۔

فیس کا حجم اور استثنیٰ کی حد

سعودی عرب میں ایک غیر ملکی ملازم کی ماہانہ مکتبِ عمل فیس تقریباً 800 سعودی ریال ہے، جو سالانہ 9600 سعودی ریال بنتی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ رعایت صرف ’مقابل مالی‘ (لیبر فیس) پر لاگو ہوگی۔ اقامہ کی تجدید کی فیس، طبی انشورنس (میڈیکل انشورنس) اور دیگر سرکاری چارجز مالکان کو حسبِ معمول ادا کرنا ہوں گے۔

سعودی وژن 2030 اور نجی شعبہ

سعودی عرب اپنے ’وژن 2030‘ کے تحت معیشت کا انحصار تیل سے ختم کر کے نجی شعبے اور چھوٹے کاروباروں پر منتقل کرنا چاہتا ہے۔

ماضی میں غیر ملکی ملازمین پر عائد بھاری فیسوں کی وجہ سے چھوٹے اداروں کو مشکلات کا سامنا تھا، جس کے باعث کئی کاروبار بند ہو رہے تھے۔

2026 کے ان نئے اقدامات کا مقصد مارکیٹ میں مقابلے کی فضا پیدا کرنا اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

چھوٹے اداروں پر معاشی اثرات

سعودی حکومت کے اس فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک چھوٹے ادارے کے لیے 4 ملازمین کی سالانہ فیس (تقریباً 38400 ریال) کی بچت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جسے وہ کاروبار کی توسیع پر خرچ کر سکتے ہیں۔

ایک سعودی ملازم رکھنے پر فیس معافی کی حد 2 سے بڑھا کر 4 کرنا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت روزگار کے حصول میں مقامی شہریوں کی شمولیت کو ہر قیمت پر یقینی بنانا چاہتی ہے۔

فیسوں میں کمی سے ملازمین پر کفیل کی جانب سے ڈالا جانے والا معاشی دباؤ کم ہوگا، جس سے لیبر مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔

’قیوا‘ پلیٹ فارم کے ذریعے معاملات کو جوڑنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ سعودی عرب اپنے لیبر قوانین کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر چکا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

Related Articles