امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کو بھجوائے گئے اپنے حالیہ جواب میں یورینیم کی افزودگی عارضی طور پر روکنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دوسری جانب ایران نے امریکا کا وہ مطالبہ سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں 20 سال تک یورینیم افزودہ نہ کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی اور ’آبنائے ہرمز‘ کو مرحلہ وار کھولنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے بدلے میں تہران نے امریکی پابندیوں کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ جوہری معاملات پر آئندہ 30 روز میں مذاکرات کا آغاز کیا جا سکتا ہے، مگر جوہری تنصیبات کو مکمل ختم کرنے کا امریکی مطالبہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر ایجنسی نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو ’گمراہ کن‘ قرار دیا ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں درج اہم نکات حقیقت کے برعکس ہیں۔
ایران کے اصل جواب میں تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ کرنے کی ضمانت اور تیل کی برآمدات سمیت تمام معاشی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع دہائیوں پر محیط ہے جس کا آغاز 2002 میں ہوا جب ایران کے خفیہ جوہری پروگرام کی اطلاعات سامنے آئیں۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما دور میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ‘مشترکہ جامع منصوبہ عمل’ (جے سی پی او اے) طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی حاصل کی تھی۔
2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو ’بدترین‘ قرار دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے اسے بند کرنے کی دھمکی عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے۔
سفارتی رسہ کشی یا جنگ کا خطرہ؟
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ اور ایرانی تردید کے درمیان چھپا اصل پیغام ’مفاہمت کی کوشش‘ معلوم ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران مکمل طور پر پیچھے ہٹنے کے بجائے ’لو اور دو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ عارضی طور پر افزودگی روکنے کی تجویز (اگر درست ہے) تو یہ امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کا ایک دانہ ہو سکتا ہے۔
ایران کا سب سے بڑا مسئلہ ’اعتماد کا فقدان‘ ہے۔ وہ ایسی ضمانتیں چاہتا ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی امریکی صدر دوبارہ یکطرفہ طور پر پابندیاں نہ لگا سکے، جو کہ امریکی آئین کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کے لیے دینا مشکل ہے۔
ایران کی معیشت تیل کی برآمدات پر پابندی کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہے۔ آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے کی تجویز دراصل عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ تجارتی راستوں کا تحفظ ایران پر سے پابندیاں ہٹانے سے جڑا ہے۔