آئی جی آزاد کشمیر کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جرائم کی شرح کم ضرور ہے لیکن عوام کو کرائم رجسٹریشن کے حوالے سے وہ ریلیف نہیں مل سکا جس کی انہیں توقع تھی۔
انہوں نے کہا کہ پولیسنگ کے شعبے میں سب سے بڑا چیلنج 756 کلو میٹر طویل لائن آف کنٹرول ہے جہاں حساس حالات کے باعث سیکیورٹی فورسز مسلسل الرٹ رہتی ہیں۔
آئی جی آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ دشمن کسی پیشگی اطلاع کے بغیر دہشتگردی کی کارروائی کرسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی ادارے ہر وقت چوکنا رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران بھی دشمن نے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا اور ہمیشہ نقصان پہنچانے کے مواقع تلاش کرتا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان پولیس سروس کے کیپٹن (ر ) لیاقت علی آئی جی آزاد کشمیر تعینات
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام اور پولیس دونوں بہترین ہیں اور باہر سے آنے والے ہر فرد کی عزت کی جاتی ہے، تاہم پولیس نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں ، پولیس لائنز میں رہائش، تھانوں میں سہولیات اور انفراسٹرکچر کی کمی جیسے مسائل جوانوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں
آئی جی نے مزید کہا کہ پولیس جوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، شہدا پیکج منظور ہوچکا ہے جبکہ وزیر اعظم، چیف سیکرٹری اور پاکستان کی اہم شخصیات نے پولیس ویلفیئر میں بھرپور تعاون کیا ہے،انہوں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ، ایلیٹ فورس، رائٹ مینجمنٹ پولیس اور سائبر ونگ جیسے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
آئی جی کیپٹن ریٹائر لیاقت علی ملک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آزادکشمیر میں ماضی قریب میں احتجاج ہوئے جس میں پولیس اہلکار شہید ہوئے ، شہری بھی شہید ہوئے ، پولیس اہلکاروں کیساتھ ناروا سلوک اپنایا گیا ۔ پولیس اہلکاروں پر حملے کئے گئے ۔ اس طرح کے احتجاج میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ تھرڈ پارٹی اپنا کردار ادا کرتی ہے ۔
آئی جی کیپٹن ریٹائر لیاقت علی ملک کا کہنا تھا کہ جو لوگ پانی ، بجلی ، آٹے گیس کیلئے نکلے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں وہ اپنے حق کیلئے نکلتے ہیں ، پولیس کو مارنے تھوڑا نکلتے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں اگر آزادکشمیر کو دیکھا جائے تو الحمد اللہ یہاں کافی حدتک معاملات بہتر ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں :راولاکوٹ پولیس نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے والے ایجنٹ کو گرفتار کر لیا، آئی جی پولیس آزاد کشمیر

