خیبرپختونخوا اسمبلی نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم قانون سازی کرتے ہوئے ’اوورسیز پاکستانیز پراپرٹی ایکٹ 2026‘ منظور کرلیا ہے جس کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں اور دیگر تنازعات کے فوری حل کے لیے خصوصی عدالت قائم کی جائے گی۔
منظور کیے گئے بل کے مطابق خصوصی عدالت پشاور ہائیکورٹ کی مشاورت سے قائم کی جائے گی جبکہ اس کے جج کا عہدہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے برابر ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش جائیداد کے مسائل کا تیز اور مؤثر حل فراہم کرنا ہے تاکہ ان کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
بل کے تحت خصوصی عدالت اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد، قبضہ مافیا اور دیگر املاک سے متعلق تنازعات کی سماعت کرے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے مقدمات میں ویڈیو لنک کے ذریعے بھی پیش ہو سکیں گے جس سے انہیں پاکستان آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور مقدمات کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔
قانون کے مطابق عدالت ان مقدمات کا فیصلہ چار ماہ کے اندر کرنے کی پابند ہوگی تاکہ متاثرہ افراد کو برسوں تک عدالتی کارروائی کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کے تحفظ اور صوبے میں اعتماد کی فضا بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں نے بھی اس قانون سازی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو درپیش مشکلات میں کمی آئے گی۔