پاکستان کی ثالثی کی کوششیں بہترین ہیں، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل شاندار شخصیات ہیں، صدر ٹرمپ

پاکستان کی ثالثی کی کوششیں بہترین ہیں، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل شاندار شخصیات ہیں، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی ثالثی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بہترین شخصیات ہیں اور ان کی ایران کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کی کوششیں شاندار ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات صرف اس صورت میں آگے بڑھیں گے جب معاہدہ امریکا کے مفاد میں ہوگا۔ ان کے مطابق ایران کے فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور صورت حال جلد بہتر نتائج دے سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے ساتھ ایک واضح انتخاب تھا، یا تو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے دیا جائے یا اس عمل کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شخص ایران کو جوہری ہتھیار دینے کے حق میں ہوگا، وہ غیر دانش مندانہ سوچ رکھتا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ صرف ایک اچھا اور فائدہ مند معاہدہ کرے گا، اور اس سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران کا فوجی ڈھانچہ تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اس کی حالت انتہائی خراب ہے۔

ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ بات چیت کب ختم ہوگی، لیکن ان کے مطابق امریکا ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے جو امریکی عوام کے لیے فائدہ مند ہوگا اور اس کے اثرات ایرانی عوام کے لیے بھی مثبت ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق دعوے مسترد، وزارتِ خارجہ کا امریکی ٹی وی کی رپورٹ پر ردعمل آگیا

معاشی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جیسے ہی یہ جنگ ختم ہوگی، تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور اسٹاک مارکیٹ، جو پہلے ہی تاریخی سطح پر ہے، مزید اوپر جائے گی۔ انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی، تاہم موجودہ صورت حال میں افراطِ زر نسبتاً کم ہے۔

ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ کے حوالے سے کہا کہ وہ ایران کے معاملے میں نسبتاً مثبت کردار ادا کر رہے ہیں اور امریکا اور چین کی آئندہ ملاقات میں ایران سمیت دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کے معاملے میں کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور یا تو ایران صحیح فیصلہ کرے گا یا پھر امریکا خود اس مسئلے کو حل کرے گا۔

Related Articles