انمول پنکی نے اپنی شناخت چھپانے کیلئے کیا کیا ؟ تہلکہ خیز انکشافات

انمول پنکی نے اپنی شناخت چھپانے کیلئے کیا کیا ؟ تہلکہ خیز انکشافات

کراچی میں گرفتار ہونے والی مبینہ “کوکین کوئین” انمول عرف پنکی کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملزمہ نے نہ صرف ملک بھر میں منشیات کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا بلکہ گرفتاری سے بچنے کیلئے اپنے فنگر پرنٹس تک تیزاب سے ختم کر ڈالے تھے۔

رپورٹس کے مطابق انمول عرف پنکی 1995 میں کراچی میں پیدا ہوئی اور اس کا بچپن بلوچ پاڑے کے علاقے میں گزرا۔ نوجوانی کے دوران اس نے مبینہ طور پر منشیات فروش گروہوں سے روابط قائم کیے اور وقت گزرنے کے ساتھ اپنا الگ نیٹ ورک تیار کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بااثر شخصیات سے ڈانس پارٹیوں میں تعلقات نے اسے منشیات کے کاروبار کو وسعت دینے میں مدد دی جس کے بعد اس نے اپنا مبینہ منشیات کارٹل قائم کیا۔

  یہ بھی پڑھیں :پنکی کس کس کو پیسے دیتی رہی ؟ تفصیلات سامنے آگئیں

ذرائع کے مطابق پنکی نے کیٹامائن اور ایسیٹون کی ملاوٹ سے تیار کی جانے والی منشیات کو “کوئن میڈم پنکی” کے نام سے متعارف کرایا اور یہ برانڈ ملک کے مختلف شہروں تک پہنچایا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک کے خریداروں میں بااثر شخصیات بھی شامل تھیں جبکہ لاہور، اسلام آباد، مری، ملتان، کشمیر اور گلگت بلتستان تک سپلائی کا سلسلہ موجود تھا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمہ خواتین رائیڈرز اور کوچ سروسز کے ذریعے منشیات کی ترسیل کرتی تھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔ اس نیٹ ورک میں بیبو اور حرا نامی خواتین کو اس کی قریبی ساتھی قرار دیا جا رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ملک سے پنکی، گوگی اور کپتان کی نحوست کا سایہ چھٹ چکا ہے : عطا تارڑ

پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کو پہلی مرتبہ 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم وہ مبینہ اثر و رسوخ کے باعث جلد ضمانت پر رہا ہوگئی تھی۔ حالیہ کارروائی میں کراچی پولیس اور وفاقی ادارے نے مشترکہ آپریشن کے دوران اسے گارڈن کے علاقے سے گرفتار کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے قبضے سے اسلحہ، گولیاں اور کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ معیار کی منشیات برآمد ہوئی ہیں۔

دوسری جانب ملزمہ کی بغیر ہتھکڑی عدالت پیشی اور مبینہ پروٹوکول کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی نے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی اور قواعد کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔

editor

Related Articles