اسلام آباد میں حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے بجٹ سے متعلق اہم مذاکرات آج سے شروع ہو رہے ہیں، جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس بار نسبتاً مضبوط مالی پوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ 1.205 کھرب روپے وصول کیے، جو گزشتہ مالی سال کی مجموعی وصولیوں کے تقریباً برابر ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں 371 ارب روپے یعنی 45 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس وقت ایک عام پٹرول صارف فی لیٹر تقریباً 117.5 روپے لیوی ادا کر رہا ہے، جس کے باعث حکومتی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا۔
حکومتی حکام کے مطابق پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی اضافی آمدن، شرح سود میں 50 فیصد کمی کے نتیجے میں سودی ادائیگیوں میں کمی اور صوبوں کی جانب سے ریکارڈ کیش سرپلس نے پاکستان کی مالی صورتحال کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی عوامل آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے بجٹ مذاکرات میں پاکستان کیلئے بہتر پوزیشن کا باعث بن رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن کا دائرہ کار صرف بجٹ اہداف تک محدود نہیں ہوگا بلکہ سرکاری شعبے میں ریاستی کردار کم کرنے، معاشی اصلاحات اور شوگر سیکٹر کو مزید آزاد بنانے کیلئے مجوزہ قانونی ترامیم کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ مشن آئندہ مالی سال کیلئے محصولات اور اخراجات کے اہداف پر حکومت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کرے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کی مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد دی جائے گی جس کے بعد آئندہ ماہ وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ مالی اعداد و شمار پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے نسبتاً بہتر پوزیشن فراہم کر رہے ہیں، تاہم توانائی، ٹیکس اصلاحات اور سرکاری اداروں کی نجکاری جیسے معاملات پر سخت شرائط برقرار رہنے کا امکان ہے۔