آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر کی قسط موصول، اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں بڑا اضافہ

آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر کی قسط موصول، اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں بڑا اضافہ

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے قرض کے پروگرام کے تحت 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط جاری کر دی ہے، جس کی موصولی کی تصدیق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کر دی ہے۔

مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق یہ رقم ’وی ایف ایف‘ اور ’آر ایس ایف‘ پروگراموں کے تحت منتقل کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 8 مئی 2026 کو ہونے والے اجلاس میں تیسرے جائزے کی تکمیل کے بعد اس رقم کی منظوری دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف سے مذاکرات آج ِپاکستان کی مالی کارکردگی بہتر،عالمی سطح پر اعتماد میں اضافہ

اسٹیٹ بینک کے مطابق آئی ایم ایف بورڈ نے مجموعی طور پر 760 ملین ایس ڈی آر (اسپیشل ڈرائنگ رائٹس) کی منظوری دی، جس میں آر ایس ایف پروگرام کے تحت 154 ملین ایس ڈی آر کی دوسری قسط بھی شامل ہے۔

مجموعی طور پر اسٹیٹ بینک کو 914 ملین ایس ڈی آر موصول ہوئے ہیں جو کہ 1.3 ارب ڈالر کے برابر بنتے ہیں۔ یہ رقم براہِ راست ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں شامل کی جائے گی اور 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے ڈیٹا میں اسے باقاعدہ ظاہر کیا جائے گا۔ اس تازہ قسط کے بعد موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو اب تک مجموعی طور پر 4.6 ارب ڈالر فراہم کیے جا چکے ہیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کا حالیہ پروگرام

پاکستان نے معاشی بحران سے نمٹنے اور ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف کے ساتھ ‘ای ایف ایف’ (ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی) کا معاہدہ کیا تھا۔ یہ پروگرام 37 ماہ کے لیے طے پایا تھا جس کا مقصد ملکی معیشت میں ساختی اصلاحات لانا ہے۔

اس پروگرام کے تحت پاکستان نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، ٹیکس نیٹ میں وسعت اور سبسڈیز کے خاتمے جیسے مشکل فیصلے کیے ہیں۔ ’ریزلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی‘ (آر ایس ایف) کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں اور طویل مدتی معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سستے قرضوں کی فراہمی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب ایک قدم

آئی ایم ایف کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر کی موصولی پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے اہم ہے،  زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے کرنسی مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا ہوگا اور ڈالر کے مقابلے میں روپے پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے قسط کا جاری ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عالمی ادارہ پاکستان کی معاشی اصلاحات اور اب تک کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔ اس سے دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے سرمایہ کاری کے راستے بھی کھلیں گے۔

15 مئی کے ہفتہ وار ڈیٹا میں جب یہ رقم ظاہر ہوگی، تو یہ مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو ایک محفوظ سطح پر لے جائے گی، جو درآمدی ادائیگیوں کے لیے ضروری ہے۔

Related Articles