ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا، ایچ ون بی ویزا پالیسی غیر قانونی قرار

ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا جھٹکا، ایچ ون بی ویزا پالیسی غیر قانونی قرار

امریکا کے وفاقی جج نے اعلیٰ سطح کے غیرملکی ملازمین کو جاری کیے جانیوالے ایچ ون بی ویزا سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایچ ون بی ویزا کی درخواست پر ایک لاکھ ڈالر فیس جمع کرانے کی شرط عائد کی تھی، تاہم امریکا کے وفاقی ڈسٹرکٹ جج لیو سوروکین نے اسے غیرقانونی قرار دیدیا۔

42 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں جج نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاملے پر کانگریس کی منظوری لیے بغیر اقدام کرکے اختیارات سے تجاوز کیا تھا، ایک  لاکھ ڈالر کو خواہ  کچھ بھی کہا جائے مگر یہ ٹیکس ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایسا کوئی اختیار ہی نہیں کہ ایچ ون بی ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر ٹیکس لگادیا جائے۔

خیال رہے کہ کیلیفورنیا سمیت امریکا کی 20 ریاستوں نے ستمبر میں اعلان کردہ صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو چیلنج کیا تھا، امریکی ریاستوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کو اتنی بھاری فیس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں اور یہ اقدام امریکی وفاقی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا: H-1B ویزا لاٹری ختم، ورک ویزا کیلئے نیا نظام متعارف کرنے کا اعلان

دوسری جانب ہوم لینڈ سیکیورٹی کے شعبے نےعدالتی فیصلے کو ایکٹیوازم قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کا آغاز  کانگریس نے 1990میں  کیا تھا، اس پروگرام کے تحت امریکا میں قائم کمپنیاں مختلف شعبوں کے غیرملکی ماہرین کو امریکا میں عارضی ملازمت دیتی ہیں جس کی مدت چھ سال تک ہوسکتی ہے۔

پروگرام کے تحت ملازمتیں دینے والے ادارے 1700 ڈالر سے ساڑھے چار ہزار ڈالر تک فیس جمع کراتے ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے اسے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کردیا تھا۔

 ٹرمپ کے حکم کے تحت نئے ایچ ون بی ویزا رکھنے والوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک متعلقہ کمپنی ایک لاکھ ڈالر فیس ادا نہ کرے، تاہم یہ پابندی پہلے سے موجود ویزا ہولڈرز یا 21 ستمبر سے قبل درخواست دینے والوں پر لاگو نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی ویزا قوانین میں تبدیلی، درخواست گزاروں کیلئے اہم خبر آگئی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی امیگریشن نظام میں قانونی حدود اور انتظامی اختیارات کے تعین کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے،  اگرچہ اس معاملے پر آئندہ قانونی یا سیاسی پیش رفت کا امکان موجود ہے، تاہم فی الحال عدالت کے فیصلے نے ایچ ون بی ویزا ہولڈرز اور امریکی کمپنیوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ امیگریشن پالیسیوں میں تبدیلیاں قانون کے دائرے میں رہ کر ہی نافذ کی جا سکتی ہیں۔

editor

Related Articles