ڈینڈیلین جڑ کینسر کے خلاف مؤثر،نئی تحقیق سامنے آگئی

ڈینڈیلین جڑ کینسر کے خلاف مؤثر،نئی تحقیق سامنے آگئی

نئی سائنسی تحقیق میں ڈینڈیلین جڑ کے عرق کو لے کر دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں، جنہوں نے طبی اور سائنسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

لیبارٹری تجربات میں دیکھا گیا کہ ڈینڈیلین روٹ ایکسٹریکٹ نے کولون کینسر کے جارحانہ خلیات پر اثر دکھاتے ہوئے 48 گھنٹوں کے اندر ایک بڑی تعداد میں خلیات کو ختم کرنے کے عمل کو متحرک کیا۔ محققین کے مطابق یہ اثر مخصوص سیلولر ’’ڈیتھ سگنلنگ پاتھ ویز‘‘کے فعال ہونے کے باعث ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :جنوبی کوریا میں کچھ نہ کرنے کا انوکھا مقابلہ

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اسی ماحول میں یہ عرق صحت مند خلیات پر نمایاں نقصان دہ اثرات ظاہر نہیں کرتا، جو اسے مزید دلچسپی کا حامل بناتا ہے۔جانوروں پر کیے گئے تجربات میں بھی حوصلہ افزا نتائج دیکھے گئے، جہاں انسانی ٹیومر ماڈلز والے چوہوں میں ٹیومر کی نشوونما میں 90 فیصد سے زائد کمی رپورٹ کی گئی۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ابتدائی مرحلے کی تحقیق ہیں اور انہیں براہ راست انسانی علاج کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ ان کے مطابق لیبارٹری اور جانوروں پر ہونے والی کامیابی انسانی جسم میں لازمی طور پر وہی نتائج نہیں دیتی۔

یہ بھی پڑھیں :ملٹری طرز گاڑیاں جو عام صارفین بھی آسانی سے خرید سکتے ہیں

ماہرین صحت نے واضح کیا ہے کہ 2026 تک ڈینڈیلین جڑ کے عرق کے کینسر کے علاج کے طور پر استعمال کے کوئی مستند کلینیکل شواہد موجود نہیں ہیں۔ انسانی ٹرائلز، خوراک کے تعین اور طویل مدتی اثرات جانچنے کے لیے مزید برسوں کی تحقیق درکار ہے۔

ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ کینسر جیسے پیچیدہ مرض کے علاج میں صرف قدرتی اجزاء پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، اور کسی بھی ہربل سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے طبی مشورہ ضروری ہے۔ریسرچرز کے مطابق مستقبل میں ڈبل بلائنڈ اور پلیسبو کنٹرولڈ انسانی ٹرائلز اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ ابتدائی نتائج حقیقی طبی علاج میں تبدیل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

editor

Related Articles