معذوری کے باوجود عزم کی روشن مثال، نوجوان نے منہ سے قلم پکڑ کر امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کر لی ۔ بھارت میں ایک طالب علم نے اپنی محنت اور حوصلے سے ثابت کر دیا کہ جسمانی محدودیاں خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔
ریاست جھارکھنڈ کے ضلع گوڈا سے تعلق رکھنے والے فیضان اللہ پیدائشی طور پر سیریبرل پالسی کا شکار ہیں، ایک ایسی کیفیت جس میں جسمانی اعضا موجود ہوتے ہیں مگر ان کی حرکت محدود ہو جاتی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے تعلیم کا سفر روکنے کے بجائے اسے اپنی پہچان بنا لیا۔
ابتدائی طور پر گھر ہی ان کی دنیا بنا، جہاں ان کے والد محمد انور عالم نے انہیں مختلف مضامین کی بنیادی تعلیم دی۔ بعد میں اسکول میں داخلے کے بعد اساتذہ نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں منفرد انداز میں سیکھنے میں مدد دی۔
چونکہ فیضان اپنے ہاتھ استعمال نہیں کر سکتے تھے، اس لیے انہوں نے منہ میں قلم پکڑ کر لکھنے کی مشق شروع کی اور آہستہ آہستہ اس میں مہارت حاصل کر لی۔
وقت کے ساتھ ساتھ وہ نہ صرف پڑھائی میں آگے بڑھے بلکہ اسکول کی سرگرمیوں اور مقابلوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ ایک موقع پر ضلع سطح کے تقریری مقابلے میں کامیابی حاصل کر کے انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ٹیکنالوجی سے دلچسپی نے ان کے سفر کو مزید آسان بنایا، جہاں انہوں نے کمپیوٹر اور ڈیجیٹل تعلیم کی طرف بھی قدم بڑھایا۔آخرکار محنت اور مسلسل لگن کا نتیجہ یہ نکلا کہ فیضان نے بورڈ امتحان میں 93 فیصد نمبر حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ یہ کامیابی ان کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے پیغام ہے جو مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔