صارفیں کی اجازت کے بغیر بائیومیٹرک تصدیق ممکن نہیں، نادرا کا نیا نظام متعارف

صارفیں کی اجازت کے بغیر بائیومیٹرک تصدیق ممکن نہیں، نادرا کا نیا نظام متعارف

نادرا نے شہریوں کے بائیومیٹرک ریکارڈ کے تحفظ کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت اب صارفین اپنی شناختی معلومات تک رسائی کا مکمل اختیار خود رکھ سکیں گے۔ اس نئے اقدام کا مقصد شہریوں کے حساس کوائف کو غیر ضروری استعمال اور ممکنہ غلط استعمال سے محفوظ بنانا ہے تاکہ ہر فرد اپنی ذاتی معلومات پر زیادہ مضبوط کنٹرول حاصل کرسکے۔

ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق “پاک شناختی ایپ” میں ایک نئی سہولت شامل کی گئی ہے جس کے ذریعے صارف اپنے بائیومیٹرک ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکے گا ۔ اس سہولت کے فعال ہونے کے بعد کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کو صارف کے انگوٹھے کے نشانات یا چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کرنے کی اجازت اس وقت تک نہیں ملے گی جب تک متعلقہ فرد خود اپنی ایپ کے ذریعے اجازت فراہم نہ کرے۔

 یہ بھی پڑھیں :نادرا نے شناختی کارڈ بنوانے والوں کو ایک اور بڑی سہولت دے دی 

حکام کا کہنا ہے کہ جدید دور میں بائیومیٹرک معلومات انتہائی حساس نوعیت کی حامل ہیں اس لیے ضروری تھا کہ شہریوں کو اپنی شناختی تفصیلات کے استعمال پر براہِ راست اختیار دیا جائے۔ نئے نظام کے تحت ہر صارف اپنی مرضی کے مطابق اس سہولت کو فعال یا غیر فعال کرسکے گا جس سے شناختی معلومات کے تحفظ میں نمایاں بہتری آئے گی۔

اس سہولت کو استعمال کرنے کے لیے صارفین کو اپنے موبائل فون میں موجود “پاک شناختی ایپ” میں داخل ہونا ہوگا۔ اس کے بعد اوپر موجود فہرست میں جا کر “ذاتی ترتیبات” کے حصے سے “بائیومیٹرک معلومات تک رسائی بند کریں” کا انتخاب کرنا ہوگا۔ بعض موبائل فونز میں اس مرحلے پر اضافی تصدیق کے طور پر انگوٹھے کے نشان یا تصویر کے ذریعے شناخت بھی طلب کی جاسکتی ہے تاکہ نظام مزید محفوظ بنایا جاسکے۔

 یہ بھی پڑھیں :نادرا کی بائیو میٹرک ویری فکیشن سے متعلق وضاحت سامنے آ گئی

ترجمان کے مطابق اگر کسی مقام پر بائیومیٹرک تصدیق درکار ہو تو صارف عارضی طور پر اس سہولت کو بند کرکے مطلوبہ تصدیق مکمل کرسکتا ہے۔ تصدیق کے بعد دوبارہ اس اختیار کو فعال کرکے اپنی معلومات کو مزید محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ شناختی معلومات کے غیر ضروری استعمال کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔

editor

Related Articles