پولیس نے چارسدہ میں معروف مذہبی اسکالر مولانا محمد ادریس کے ٹارگٹ کلنگ کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے سات مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) سے وابستہ مولانا ادریس کو 5 مئی کو فائرنگ کر کے شہید کیا گیا تھا جب نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر حملہ کیا۔ اس وقت وہ مدرسے جا رہے تھے اور حملے میں ان کے ساتھ موجود دو پولیس گارڈز بھی زخمی ہوئے تھے۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق گرفتار افراد کو مردان کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا اور ان سے مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے۔ واقعے سے متعلق چارسدہ، نوشہرہ اور اطراف کے علاقوں کے موبائل ڈیٹا کی جیو فینسنگ بھی کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔
پولیس نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ایک ویڈیو بھی جانچ کے مراحل میں ہیں، جس میں مبینہ حملہ آور کو جائے وقوعہ سے فرار ہوتے دیکھا گیا۔ تحقیقات کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا اور پشاور کے مختلف علاقوں، جن میں چمکنی اور کوہاٹ روڈ شامل ہیں، سے ہوتا ہوا سروس روڈ کے ذریعے چارسدہ پہنچا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم حملے کے روز صبح تقریباً 5:30 بجے چارسدہ پہنچا تھا۔
سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ اس کیس کی تفتیش سیف سٹی پراجیکٹ ٹیم اور دیگر خصوصی یونٹس کی مدد سے کی جا رہی ہے۔ پولیس نے ڈیجیٹل شواہد اور نگرانی کے مواد کی تصدیق کے لیے بھی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ اس مبینہ منصوبہ بند ٹارگٹ کلنگ کی مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔
مولانا ادریس علاقے کی ایک معروف مذہبی شخصیت تھے اور ماضی میں صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ ان کے قتل کے بعد چارسدہ سمیت مختلف علاقوں میں جے یو آئی (ف) کے کارکنان نے احتجاج کیا اور فوری گرفتاریوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ضلع میں سرچ آپریشنز شروع کر دیے اور حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، تاہم اب تک کسی گروہ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔