خیبر پختونخوا حکومت شہری کے ساتھ ہاتھ کر گئی ، شہری پریشان

خیبر پختونخوا حکومت شہری کے ساتھ ہاتھ کر گئی ، شہری پریشان

موٹرسائیکل سواروں کے لیے اعلان کردہ پیٹرول ریلیف اسکیم نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیا ہے جہاں  امدادی رقم اور عملی طور پر شہریوں کو ملنے والی ادائیگی میں واضح فرق سامنے آیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق موٹر سائیکل چلانے والوں کو پیٹرول کی مد میں ریلیف نے شہری کو اس وقت صدمے سے دوچار کیا جب  خیبرپختونخوا حکومت نے 22 سو روپے کی جگہ شہری کو صرف 100 روپے ارسال کیے ۔

اس صورتحال نے نہ صرف عوامی بےچینی میں اضافہ کیا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث کو جنم دیا ہے،  شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں جب روزمرہ اخراجات پہلے ہی بوجھ بن چکے ہیں، ایسے اقدامات امید کے بجائے مایوسی کا باعث بن رہے ہیں۔

 خیال رہے کہ حکومت نے موٹر سائیکل صارفین کے لیے احساس موٹر سائیکل ریلیف کے تحت 22 سو روپے فی صارف دینے کا اعلان کیا تھا اور اس مقصد کے لیے تقریباً 3 ارب روپے بھی مختص کیے گئے تھے،  16 لاکھ سے زائد موٹر سائیکل صارفین اس اسکیم سے مستفید ہونے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :دعوے ناکام! خیبرپختونخوا میں طبی عملہ غیرمحفوظ ، ڈاکٹرز صوبائی حکومت کیخلاف سراپا احتجاج

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف 17 ہزار 658 افراد نے ہی اس اسکیم کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے، جن میں سے 17 ہزار 658 درخواستوں کی جانچ پڑتال مکمل کی گئی جبکہ صرف 8 ہزار 515 افراد کی منظوری دی گئی ہے ، مزید یہ کہ اب تک 5 ہزار سے زائد افراد کو ہی پیٹرول کی مد میں رقم جاری کی گئی ہے۔

سب سے زیادہ حیران کن صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ایک صارف  نے شکایت کی کہ انہیں اعلان کردہ 22 سو روپے کے بجائے صرف 100 روپے موصول ہوئے ہیں  ایسے کیسز کی جانچ پڑتال جاری ہے۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں اور روزگار کے مسائل سے پریشان ہیں، ایسے میں سرکاری ریلیف اسکیموں میں غیر یقینی صورتحال مزید اضطراب پیدا کر رہی ہے ، سکیم پر عمل درآمد نہیں ہونا تھا تو وزیراعلیٰ کے پی نے اعلان ہی کیوں کیا ؟ شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کی فوری وضاحت دے ۔

editor

Related Articles