وہیل کی موت بھی زندگی کا آغاز بن جاتی ہے، سمندر کا حیرت انگیز قدرتی راز

وہیل کی موت بھی زندگی کا آغاز بن جاتی ہے، سمندر کا حیرت انگیز قدرتی راز

سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات نے سمندر کی گہرائیوں میں وہ حیرت انگیز قدرتی عمل دوبارہ اجاگر کیا ہے جسے ’’وہیل فال‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی وہ لمحہ جب ایک بڑی وہیل مرنے کے بعد سمندر کی تہہ میں جا کر ایک مکمل نئی زندگی کا آغاز بن جاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جب وہیل کی زندگی ختم ہوتی ہے تو اس کا جسم آہستہ آہستہ سمندر کی تاریک تہہ میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ منظر بظاہر ایک اختتام لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک نئے ماحولیاتی نظام کی شروعات ہوتی ہے۔ سب سے پہلے شارک اور بڑے سمندری جانور اس جسم تک پہنچتے ہیں، اس کے بعد کیکڑے، مچھلیاں اور ایسے نایاب کیڑے ظاہر ہوتے ہیں جو عام طور پر کہیں اور نہیں ملتے۔ وقت کے ساتھ یہ باقیات سینکڑوں انواع کے لیے ایک مکمل رہائش گاہ میں بدل جاتی ہیں جو کئی دہائیوں تک قائم رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :موسم کا راز، پائن کونز کیسے بارش کا اندازہ لگا لیتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق ایک ہی وہیل اپنی موت کے بعد سمندر میں زندگی کا پورا سلسلہ پیدا کر سکتی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قدرت میں ہر انجام ایک نئے آغاز کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ وہیلز اپنی زندگی میں بھی ماحول کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ اپنے جسم میں کاربن محفوظ رکھتی ہیں اور جب ان کی موت کے بعد وہ سمندر کی گہرائی میں چلی جاتی ہیں تو یہ کاربن صدیوں تک وہاں محفوظ رہتا ہے۔ اسی وجہ سے سائنسدان وہیلز کو ’’قدرت کے کاربن محافظ‘‘ بھی کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایک نابینا موجد کی حیرت انگیز ایجاد، جس نے گاڑی چلانے کا طریقہ بدل دی

زندہ وہیلز کا ایک اور حیرت انگیز پہلو ان کی آوازیں ہیں۔ یہ آوازیں میلوں دور تک پانی میں سفر کرتی ہیں اور رابطے، رہنمائی اور گروہی ہم آہنگی کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اگرچہ انسان ان آوازوں کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکتے، مگر یہ واضح ہے کہ یہ صرف آواز نہیں بلکہ ایک پیچیدہ رابطہ نظام ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بھٹے سے ڈیجیٹل دنیا تک، 20 سالہ خانزالہ نے ایک لیپ ٹاپ سے اپنی زندگی بدل دی

ماہرین نے بلیو وہیل کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یہ زمین پر موجود سب سے بڑا جانور ہے، جس کا دل ایک چھوٹی گاڑی کے برابر ہوتا ہے اور بعض اوقات گہرے سمندر میں اس کی دھڑکن فی منٹ صرف چند بار رہ جاتی ہے۔ اس کی عمر بھی حیرت انگیز طور پر 70 سے 90 سال تک ہوتی ہے اور بعض افراد ایک صدی سے زیادہ بھی زندہ رہے ہیں۔

قدیم دور میں ملاح وہیلز کو خوفناک مخلوق سمجھتے تھے، تاہم آج سائنس انہیں سمندر کے ماحولیاتی نظام کے محافظ کے طور پر دیکھتی ہے۔ماہرین کے مطابق وہیل کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی کا اصل مطلب صرف جینا نہیں بلکہ ایسا اثر چھوڑنا ہے جو ختم ہونے کے بعد بھی دوسروں کے لیے زندگی کا سبب بنے۔

editor

Related Articles