بی ایل اے میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، کمانڈربشیر زیب کے حکم پر ٹویٹر ہینڈلر بہوت بلوچ کا بھائی قتل

بی ایل اے میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، کمانڈربشیر زیب کے حکم پر ٹویٹر ہینڈلر بہوت بلوچ کا  بھائی قتل

دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اندر جاری شدید اختلافات نے خونریز رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں تنظیم کے سوشل میڈیا ونگ اہم رکن بہوت بلوچ کے بڑے بھائی حیات خان کو مبینہ طور پر تنظیمی احکامات پر قتل کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق حیات خان کو بی ایل اے کمانڈر بشیر زیب کے حکم پر نشانہ بنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کارروائی ایک ایسے اغوا کے ردعمل میں کی گئی جس کی منظوری بشیر زیب نے نہیں دی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ کالعدم تنظیم کے اندر طاقت، کنٹرول اور تنظیمی ڈھانچے پر گرفت مضبوط کرنے کی جاری کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔

اندرونی تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر سید منظور احمد اور دو دیگر اساتذہ کو کوئٹہ جاتے ہوئے سفر کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان، مستونگ کے علاقے کلی پدہ میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، بی ایل اے کے 6 د ہشتگرد جہنم واصل

ذرائع کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کے اغوا کا تعلق ان کی اہلیہ کے قبائلی تنازع سے جوڑا جا رہا ہے، جس میں بہت اور حیات خان کا نام سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ معاملہ زیادہ تر ذاتی نوعیت کا تھا، تاہم بشیر زیب کی منظوری کے بغیر اس اقدام نے تنظیم کے اندر شدید ردعمل پیدا کیا۔

ذرائع کے مطابق بشیر زیب نے غیر مجاز کارروائی پر فوری اور سخت ’سبق‘ سکھانے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں حیات خان کو قتل کیا گیا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ مختلف دھڑوں اور گروپوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید ٹارگٹ کلنگز اور حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Related Articles