ایران کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے نیا انتظامی اور تکنیکی نظام تیار کرنے کا اعلان

ایران کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے نیا انتظامی اور تکنیکی نظام تیار کرنے کا اعلان

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے ایک نیا انتظامی اور تکنیکی نظام تیار کرنے کا اعلان کیا ہے اس پیش رفت کو خطے میں سمندری سلامتی اور تجارتی راستوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کو ایک مخصوص اور متعین روٹ کے تحت کنٹرول کرنے کے لیے ایک پیشہ ورانہ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس نئے نظام کے تحت وہی تجارتی جہاز فائدہ حاصل کر سکیں گے جو ایران کے ساتھ طے شدہ ضوابط کے مطابق تعاون کریں گے،اس نظام میں سمندری راستوں کے استعمال پر فیس کی وصولی بھی شامل ہوگی جو مبینہ طور پر خدمات اور سکیورٹی انتظامات کے بدلے لی جائے

یہ بھی پڑھیں :برطانیہ کا آبنائے ہرمز کے تحفظ کیلئے ڈرونز، لڑاکا طیارے اور جنگی بحری جہاز بھیجنے کا اعلان

ایرانی حکام کے مطابق اس میکانزم کا مقصد سمندری ٹریفک کو زیادہ منظم اور محفوظ بنانا ہے، تاکہ حساس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال یا ٹکراؤ کے امکانات کو کم کیا جا سکے،تاہم اس اقدام کو خطے میں بعض ممالک کی جانب سے مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بعض یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے تہران کے ساتھ رابطے اور مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔

ان مذاکرات کا مقصد ممکنہ رکاوٹوں سے بچنا اور توانائی و تجارتی ترسیل کے تسلسل کو برقرار رکھنا بتایا جا رہا ہے، آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم راستہ ہےاور یہاں کسی بھی نئے انتظامی یا سکیورٹی نظام کا اعلان عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

editor

Related Articles