ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سب سے پہلے اسرائیل کی اشتعال انگیزیوں کا خاتمہ ضروری ہے،ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جارحانہ اقدامات شامل ہیں۔
ترک میڈیاکے مطابق صدر اردوان نے قازقستان سے واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر موقع پر اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ خطے میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ اسرائیل کی مسلسل پالیسیوں اور اقدامات کو سمجھا جانا چاہیے اگر حالات کو قابو میں نہ لایا گیا تو کشیدگی مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں چاہتی ہیں کہ جنگ اور تنازع پورے خطے تک پھیل جائے، جس کے نتیجے میں خوف، بے یقینی اور عدم استحکام میں اضافہ ہو۔
صدر اردوان نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے عوام ایک طویل عرصے سے بدامنی اور تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ خطے کے ممالک مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔
ترک صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر خطے میں مستقل امن اور استحکام مطلوب ہے تو تمام ممالک کو اپنے قلیل مدتی سیاسی یا معاشی مفادات سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنا ہوں گے،اصل ترجیح خطے کے عوام کے حقوق، سلامتی اور بہتر مستقبل کو دی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو بیرونی طاقتوں کے مفادات کے بجائے اپنے شہریوں کے تحفظ اور خطے کے استحکام پر توجہ دینی چاہیے ،انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون، سفارتکاری اور مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جن کے ذریعے موجودہ کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔