وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی فشریز برآمدات نے پہلی بار اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر لیا ہےجو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کی مجموعی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ حجم جلد 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی سمندری مصنوعات کی مانگ میں اضافہ اس شعبے کی ترقی کا واضح ثبوت ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ چین بدستور پاکستان کی سمندری خوراک کی سب سے بڑی منڈی کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں پاکستانی مصنوعات کو نمایاں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، اس کے علاوہ جولائی سے دسمبر کے دوران فشریز برآمدات میں 21 اعشاریہ 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک نمایاں بہتری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تھائی لینڈ، جاپان اور یورپی یونین کی منڈیوں میں بھی پاکستانی سمندری مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک میں بھی پاکستانی سی فوڈ کی طلب میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایکسپورٹرز کے مطابق مالی سال2022 اور 23کے دوران فشریز برآمدات کا حجم تقریباً 49 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا تھا، تاہم موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے اس شعبے میں اربوں ڈالر تک پہنچنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، بشرطیکہ معیار، پروسیسنگ اور برآمدی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔
اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر جدید ٹیکنالوجی، کولڈ چین سسٹم اور بین الاقوامی معیار پر توجہ دیں تو پاکستان کی سمندری برآمدات ملکی زرمبادلہ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔