امریکا کی ایک بار پھر ایران کے لیے 5 انتہائی کڑی شرائط منظرعام پرآگئیں

امریکا کی ایک بار پھر ایران کے لیے 5 انتہائی کڑی شرائط منظرعام پرآگئیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین کشیدگی، عسکری تناؤ اور ممکنہ سفارتی راستوں کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایران کو جھکانے کے لیے 5 انتہائی سخت اور کڑی شرائط عائد کر دی ہیں۔

ایران کی معروف ’فارس نیوز ایجنسی‘ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق امریکا نے واضح کیا ہے کہ ان بنیادی اور کڑی شرائط کو پورا کیے بغیر دونوں ممالک کے مابین کسی بھی قسم کے امن عمل یا مذاکرات کو آگے بڑھانا قطعی طور پر ناممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ایران کے خلاف تیار نئی منصوبہ بندی منظرِعام پرآگئی

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے پیش کیے گئے اس نئے امن فارمولے میں ایران کے جوہری پروگرام، معاشی وسائل اور علاقائی اثر و رسوخ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

جوہری مواد کی منتقلی کا مطالبہ

امریکا نے ایران پر شرط عائد کی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود 400 کلوگرام اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم فوری طور پر ملک سے باہر منتقل کرے۔

جوہری تنصیبات کی محدودیت

ایران اپنے پورے ملک میں جاری نیوکلیئر پروگرام کو رول بیک کرے اور اپنے تمام کاموں کو صرف اور صرف 1 مخصوص جوہری تنصیب تک محدود کر دے۔

علاقائی محاذوں پر پسپائی

امریکا نے لبنان سمیت تمام فعال محاذوں پر کشیدگی کے فوری اور مکمل خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے اور ایران سے ان محاذوں سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے۔

منجمد اثاثوں پر معمولی ریلیف

اگرایران ان تمام شرائط کو مان لیتا ہے، تب بھی امریکا دنیا بھر کے بینکوں میں منجمد کیے گئے ایرانی قومی اثاثوں کو مکمل طور پر بحال نہیں کرے گا، بلکہ صرف 25 فیصد تک کی رقم پر نرمی کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

معاوضے کی ادائیگی سے صاف انکار

امریکا نے ایران کے اس بنیادی مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں تہران نے ایرانی سرزمین پر ہونے والی بمباری سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ طلب کیا تھا۔

واشنگٹن نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مالی ادائیگی یا ہرجانہ دینے کے لیے تیار نہیں۔

بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور اقتصادی پابندیاں

اس بدلتی ہوئی صورت حال کا پس منظر گزشتہ طویل عرصے سے جاری امریکی پابندیوں اور خلیج کے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں سے جڑا ہوا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے کی منسوخی کے بعد سے سفارتی تعلقات مسلسل تعطل کا شکار رہے ہیں۔

 حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف محاذوں پر بڑھتی ہوئی جھڑپوں اور ایرانی تنصیبات پر ہونے والی بمباری کے بعد تہران نے بارہا یہ مطالبہ دہرایا تھا کہ کسی بھی مستقل امن عمل سے پہلے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ایرانی حدود میں کی جانے والی تباہی کا مالی معاوضہ ادا کرنا ہوگا اور منجمد اثاثے غیر مشروط طور پر بحال کرنا ہوں گے۔

تاہم امریکا نے ان مطالبات کو پسِ پشت ڈال کر الٹا ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے یہ نیا 5 نکاتی ایجنڈا سامنے رکھ دیا ہے۔

ایران کا ممکنہ مؤقف اور خطے کے حالات

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کی جانے والی یہ شرائط سفارتی سمجھوتے کے بجائے ایران کو مکمل طور پر دفاعی پوزیشن میں لانے کی کوشش ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کی ملک سے باہر منتقلی اور اپنے پورے پروگرام کو محض 1 تنصیب تک محدود کرنے کا مطالبہ ایران کے لیے آسانی سے قابلِ قبول نہیں ہوگا، کیونکہ تہران اسے اپنی قومی سلامتی اور سائنسی خودمختاری پر سمجھوتہ سمجھتا ہے۔

ایرانی منجمد اثاثوں میں صرف 25 فیصد کی نرمی کی پیشکش معاشی محاذ پر ایران کو کوئی بڑا ریلیف دینے میں ناکام رہے گی۔

معاوضے کی ادائیگی سے واشنگٹن کا صاف انکار یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطے میں اپنی عسکری کارروائیوں کا کوئی معاشی یا قانونی خمیازہ بھگتنے کو تیار نہیں۔

موجودہ حالات میں ایران ان کڑی شرائط کے جواب میں اپنے مؤقف پر مزید سختی اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری سیاسی اور سفارتی تعطل مزید گہرا ہونے کا اندیشہ ہے۔

Related Articles