پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات مزید شدت اختیار کرنے لگے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وزارتوں کی تقسیم پر ہونے والی تلخ بحث نے پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی کو نمایاں کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متعدد اراکین اسمبلی نے نہ صرف وزارتوں کی تقسیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا بلکہ بعض ارکان نے قیادت کے فیصلوں پر بھی کھل کر ناراضی ظاہر کی۔ اجلاس میں کئی اضلاع کو نظر انداز کیے جانے کا شکوہ کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ اگر فیصلوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ سمیت سخت اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق صورتحال اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ پارٹی اراکین میں قیادت کے فیصلوں کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ بڑھ رہی ہے جبکہ اندرونی گروپ بندی بھی کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس کی صدارت اکبر ایوب نے کی تاہم اجلاس کے دوران مختلف معاملات پر اختلافِ رائے نمایاں رہا۔ ذرائع کے مطابق بعض اراکین نے شکوہ کیا کہ اہم فیصلوں میں منتخب نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔
اجلاس میں اڈیالہ جیل جانے کے حوالے سے بھی حکمت عملی طے کی گئی اور ہر رکن اسمبلی کو 100 کارکن اڈیالہ پہنچانے کا ہدف دیا گیا۔
واضح رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کے سلسلے میں پارٹی قیادت متحرک ہے تاہم اندرونی اختلافات کے باعث پارٹی کے اندر سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔