چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا ایک اہم اور اسٹرٹیجک دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے سرحدوں کی حفاظت پر مامور افسران اور جوانوں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور ان کے بلند حوصلے کو سراہا۔
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کور کمانڈر کوئٹہ نے گیریژن پہنچنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شاندار استقبال کیا، جس کے بعد سپہ سالار کو صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، پاک افغان اور پاک ایران اور افغان بارڈر مینجمنٹ اور بلوچستان میں جاری دہشتگردی کے خلاف آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا کہ ریاستِ پاکستان ملک بھر سے ہر قسم کی دہشتگردی کے مکمل اور حتمی خاتمے کے لیے سو فیصد پرعزم ہے اور اس راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
جدید جنگی تقاضے اور ملٹی ڈومین آپریشنز
دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فورسز کی پیشہ ورانہ تیاریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور افسران کو مستقبل کی جنگوں کے حوالے سے گائیڈ لائنز جاری کیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں نوجوان افسران اور کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ عصرِ حاضر کی جدید ترین ٹیکنالوجیز، سائبر ٹولز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی دفاعی نظاموں پر مکمل کنٹرول اور مہارت حاصل کریں۔
ملٹی ڈومین آپریشنز
فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ اب جنگیں صرف زمین یا فضا تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ’ملٹی ڈومین‘ (کئی جہتوں) میں لڑی جاتی ہیں۔ اس لیے فوج کو بیک وقت روایتی، غیر روایتی، ڈیجیٹل اور انفارمیشن وارفیئر کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہوگا۔
جدید جنگی تقاضے
انہوں نے زور دیا کہ عسکری اداروں کو بدلتے ہوئے علاقائی جغرافیائی اور سیکیورٹی چیلنجز کے مطابق خود کو ہم آہنگ رکھنا ہوگا تاکہ دشمن کے کسی بھی ناپاک عزائم کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔
پروپیگنڈا اور بیرونی سرپرستی میں دہشتگردی پر کڑا وار
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والی اندرونی و بیرونی قوتوں کو سخت پیغام دیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ملک کے خلاف کیا جانے والا منفی پروپیگنڈا اور بیرونی سرپرستی (فارن فنڈنگ) میں ہونے والی بزدلانہ دہشتگردی پاکستان کی اقتصادی اور اسٹریٹجک ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستِ پاکستان اور غیور عوام کے مابین موجود مضبوط یکجہتی اور فولادی رشتہ ہی وہ اصل طاقت ہے جو دشمن قوتوں کے تمام مذموم عزائم کو ہمیشہ کی طرح خاک میں ملا دے گی۔ دشمن جتنا بھی زور لگا لے، وہ عوام اور فوج کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتا۔
بلوچستان کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ‘ففتھ جنریشن وار’
واضح رہے کہ اس اہم دورے کا پس منظر گزشتہ چند مہینوں میں بلوچستان میں سی پیک منصوبوں، سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر ہونے والے بزدلانہ حملوں سے جڑا ہوا ہے۔
بلوچستان چونکہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا اور معدنیات سے مالامال صوبہ ہے، اس لیے بیرونی انٹیلیجنس ایجنسیاں یہاں کے نوجوانوں کو گمراہ کر کے اور ڈیجیٹل پروپیگنڈے کے ذریعے ’ففتھ جنریشن وارفیئر‘ مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
فیلڈ مارشل کا کوئٹہ کا یہ دورہ سیکیورٹی فورسز کی آپریشنل تیاریوں کو مہمیز کرنے اور دشمن کو یہ بتانے کے لیے انتہائی اہم ہے کہ پاک فوج صوبے کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
امن کے لیے عوامی فلاح اور ترقی کا ماڈل
واضح رہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ بیان کہ ’بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے عوامی فلاح اور ترقی ناگزیر ہے‘، پاک فوج کی اسٹرٹیجک پالیسی میں ایک بڑے اور مثبت شفٹ کو ظاہر کرتا ہےجس کا مطلب ہے کہ صرف فوجی طاقت ہی حل نہیں، عسکری قیادت اس بات کو بخوبی سمجھتی ہے کہ دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ صرف بندوق کی گولی سے ممکن نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود بھی اولین ہونی چاہیے۔
یہ بات درست ہے کہ جب تک مقامی آبادی کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی انفراسٹرکچر فراہم نہیں کیا جائے گا، تب تک دشمن کو مقامی سطح پر ہمدردیاں بٹورنے کا موقع ملتا رہے گا۔ اس لیے فوج صوبے میں سڑکوں کے جال، اسکولوں اور اسپتالوں کے قیام میں سول حکومت کی مدد کر رہی ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ ایک طرف ’کائنیٹک آپریشنز‘(مسلح کارروائیاں) کے ذریعے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف ’نان کائنیٹک‘ طریقے یعنی پروپیگنڈے کا مقابلہ سچائی سے کرنے اور عوام کو ترقی کے عمل میں شامل کرنے کی اسمارٹ حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔ ریاست اور عوام کی یہ یکجہتی ہی بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنائے گی۔