وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے قافلے کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انٹری پوائنٹ پر روک دیا گیا جس کے بعد ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اسلام آباد جانے والی موٹر وے پر تقریباً 10 کلومیٹر تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جس سے مسافر گھنٹوں پھنسے رہے۔
وزیراعلیٰ اس بات پر بضد ہیں کہ ہم جی ٹی روڈ سے اڈیالہ جائیں گے جبکہ اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ وہ چکری انٹرچینج سے ایک راستہ ہے جو اڈیالہ تک جاتا ہے، وہ راستہ اختیار کریں ۔
علاوہ ازیں 26 نمبر چونگی پرپولیس اور وزیراعلیٰ کے درمیان تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔
مسافروں کو اس وجہ سے طویل تاخیر اور مشکلات کاسامنا ہے اور وہ وزیراعلیٰ کی اس ہٹ دھرمی پر شکوہ کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ ٹریفک پولیس کی جانب سے گاڑیوں کو متبادل راستوں کی طرف موڑنے کی کوشش بھی جاری ہے ۔
اس صورتحال نے موٹر وے سائیڈ سے اسلام آباد میں داخل ہونے والے مسافروں میں شدید غم وغصہ اور تشویش پیدا کردی ہے۔
دوسری جانب پشاور، بنوں، لکی مروت، کوہاٹ، صوابی اور لوئر دیر کے شہریوں نے صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کارکردگی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان پر کڑی تنقید کی ہے۔
ایک سروے کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں سے موصول ہونے والے تاثرات کے مطابق صوبے میں اس وقت گڈ گورننس (بہترین طرزِ حکومت) کا نام و نشان تک نہیں ہے اور جرائم پیشہ عناصر سرعام دندناتے پھر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے کے انتظامی سربراہ سہیل خان آفریدی عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں اور وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے چکر لگانے اور سیاسی جوڑ توڑ میں صرف کر رہے ہیں، جس سے صوبہ لاوارث ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے قافلے کی آمد و رفت کے دوران شہر میں شدید ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
ذرائع کے مطابق ٹریفک کی بندش کے دوران کچھ ایمبولینسیں بھی ٹریفک میں پھنس گئیں، جس سے مریضوں کی منتقلی میں مشکلات پیش آئیں۔ شدید گرمی کے باعث شہریوں کو سڑکوں پر طویل انتظار کرنا پڑا اور مختلف مقامات پر عوام کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔