مچھروں کا خاتمہ اب ٹیکنالوجی کے ذریعے، دلچسپ ایجاد سامنے آگئی

مچھروں کا خاتمہ اب ٹیکنالوجی کے ذریعے، دلچسپ ایجاد سامنے آگئی

گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی مچھروں کی واپسی نے جہاں لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، وہیں اب جدید ٹیکنالوجی اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں بھی سرگرم ہو گئی ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ایک انوینٹر اسٹیون چنگ نے ایسے کئی پروٹوٹائپس تیار کیے ہیں جو مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ کی مدد سے مچھروں کی شناخت، ان کی ٹریکنگ اور انہیں لیزر کے ذریعے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :اب بجلی بنائیں ریلوے ٹریکس سے،منفرد منصوبہ توجہ کا مرکز

اس منصوبے کی تفصیلات انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی ہیں، جہاں موبائل موسکیٹو ڈیفنس سسٹم کی ویڈیوز بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اس نظام میں کمپیوٹر وژن اور ڈیپ لرننگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس کی مدد سے یہ سسٹم مچھروں کو دیگر اشیاء سے الگ شناخت کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

اس آلے میں کینن ڈیجیٹل کیمرہ اور ہائی میگنیفیکیشن لینس استعمال کیا گیا ہے، جبکہ سافٹ ویئر کو خاص طور پر مچھروں کی شناخت کے لیے تربیت دی گئی ہے۔ ابتدائی تجربات کے دوران اس منصوبے کے ڈویلپر کو خود بھی متعدد مچھر کاٹ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایکس کا بڑا اپڈیٹ، پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کرنا پہلے سے زیادہ آسان

لیزر سسٹم کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ صرف مچھروں کو نشانہ بناتا ہے اور انسانوں یا گھریلو اشیاء کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ سافٹ ویئر میں حفاظتی فیچرز شامل کیے گئے ہیں جو انسانی موجودگی یا خطرناک مواد کو فوری طور پر شناخت کر کے لیزر کو بند کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گھروں کے لیے مفت سولر سسٹم منصوبے کی منظوری

بعد کے مراحل میں اس سسٹم کو مزید بہتر بنایا گیا اور اسے موبائل پلیٹ فارم پر نصب کیا گیا تاکہ یہ گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہ حرکت کرتے ہوئے مچھروں کا خاتمہ کر سکے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق جدید ورژنز میں نائٹ وژن اور گٹلن گن اسٹائل ڈیزائن بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے یہ نظام اندھیرے میں بھی مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔

editor

Related Articles