تنخواہیں اور پنشن کتنی بڑھائی جائے؟ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ کو ہدایت دیدی

تنخواہیں اور پنشن کتنی بڑھائی جائے؟ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ کو ہدایت دیدی

وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے آنے والے نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبرری کی تیاری کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد تک کا اضافہ تجویز کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعہ کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس کی صدارت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ 2026-27 کے بعد پاکستان میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں کتنا اضافہ متوقع

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایک غیر رسمی اجلاس تھا جس کی میڈیا کوریج نہیں کی گئی تاکہ بجٹ کی اہم تجاویز اور معاشی اہداف کو رازداری کے ساتھ حتمی شکل دی جا سکے۔

وفاقی وزیر خزانہ کی بریفنگ اور اہم تجاویز

اس اہم بیٹھک میں وفاقی وزیر خزانہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو بجٹ کے مختلف اور کلیدی پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام یعنی ترقیاتی بجٹ، نئے ٹیکسز کے نفاذ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے جیسے حساس ترین ایشوز زیرِ بحث آئے۔

رپورٹ کے مطابق بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملک میں جاری افراطِ زر کی شرح کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد سے 15 فیصد کے درمیان اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

تاہم وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ متوقع ملکی وسائل کی روشنی میں ایک بار پھر جامع ورکنگ کی جائے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ملازمین کو اس کڑے وقت میں مزید کتنا ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور ماضی کا بجٹ تناظر

پاکستان کے سرکاری ملازمین گزشتہ چند سالوں سے ملک میں جاری شدید مہنگائی اور افراطِ زر کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ سال 2024 اور سال 2025 کے بجٹ میں بھی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا تھا لیکن مہنگائی کی لہر کے سامنے وہ ناکافی ثابت ہوا۔

مالی سال 27-2026 کا بجٹ ایک ایسے وقت میں تیار کیا جا رہا ہے جب ملک بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاشی اصلاحات کے پروگراموں پر عمل پیرا ہے اور حکومت پر ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے سخت دباؤ ہے۔ ایسی صورتحال میں ترقیاتی بجٹ کی ضرورتوں اور ملازمین کے ریلیف کے درمیان توازن برقرار رکھنا حکومت کے لیے ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔

اتحادیوں کا کردار اور حتمی فیصلے کا طریقہ کار

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اس سلسلے میں حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہان سے تفصیلی مشاورت کریں گے اور ان کی سیاسی منظوری کے بعد ہی اس تجویز کو وفاقی کابینہ اور پھر پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 10 جون کو طلب کرنے کی سمری ایوانِ صدر کو ارسال

اس کے علاوہ، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مختص کرنے کی ورکنگ تیز کر دی گئی ہے تاکہ بجٹ کو عوامی اور متوازن شکل دی جا سکے۔

بجٹ تجاویز کا معاشی اور سیاسی جائزہ

مالی سال 27-2026 کے بجٹ کے حوالے سے ہونے والی اس غیر رسمی مشاورت کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومت اس وقت شدید معاشی اور سیاسی دباؤ کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد کا متوقع اضافہ افراطِ زر کی موجودہ شرح کے لحاظ سے شاید سرکاری ملازمین کے لیے مکمل طور پر کافی نہ ہو، لیکن ملکی مالیاتی وسائل کی تنگی کو دیکھتے ہوئے یہ ایک حقیقت پسندانہ تجویز معلوم ہوتی ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے وسائل کے مطابق مزید ورکنگ کی ہدایت ظاہر کرتی ہے کہ وہ عوامی سطح پر ریلیف دینے کے خواہشمند ہیں تاکہ مہنگائی کے مارے طبقے کو کچھ سہارا مل سکے، لیکن وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط اور مالیاتی خسارے کی حدود کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتے۔

تنخواہوں میں اضافے کے فیصلے کو اتحادیوں سے مشروط کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وزیراعظم بجٹ جیسے اہم ترین قومی دستاویز پر مکمل سیاسی اتفاقِ رائے چاہتے ہیں تاکہ پارلیمنٹ میں بجٹ کی منظوری کے دوران کسی بھی قسم کی سیاسی مزاحمت یا عدم استحکام سے بچا جا سکے۔

Related Articles