بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک بار پھر بین الاقوامی میڈیا اور عالمی مبصرین کی شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ ناروے کے سب سے بڑے اور معتبر اخبار ’آفتن پوستن‘ نے بھارتی وزیر اعظم کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کو ہدف بناتے ہوئے ایک انتہائی چونکا دینے والا کارٹون شائع کیا ہے، جس میں مودی کی اصلیت کو ’ مداری‘ قرار دے دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اخبار کی جانب سے وائرل اس کارٹون میں نریندر مودی کو سانپ کا روایتی کھیل دکھانے والے یا مداری یا سپیرے کے روپ میں دکھایا گیا ہے، جو اپنی بین بجا کر نفرت اور انتہا پسندی کے سانپ کو ابھار رہا ہے۔
اس کارٹون کے سامنے آتے ہی بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ عالمی میڈیا سمیت خود بھارتی میڈیا میں بھی مکار اور پریشان کن شخص‘ (سیکری اینڈ مینیپولیٹو کریکٹر) کی سرخیوں کے ساتھ اس پر تفصیلی پروگرام اور تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں، مسلم دشمنی اور ہندوتوا کے شدت پسند بیانیے پر پہلے بھی عالمی سطح پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں، تاہم ناروے کے اخبار کا یہ تازہ کارٹون اس عالمی بحث کو مزید تیز کر گیا ہے۔
خارجہ تعلقات کے ماہر تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے اندر سنگھ پریوار کے دباؤ کے تحت اختلافِ رائے پر پابندیوں، صحافیوں پر سخت قوانین کے استعمال اور اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والے مظالم کے الزامات مسلسل سچے ثابت ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے نام نہاد ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘ کا عالمی امیج بری طرح مسخ ہو چکا ہے۔ نفرت پر مبنی سیاست بھارت کو تیزی سے عالمی سطح پر تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہے۔
نریندر مودی کا ماضی 2002 کے گجرات مسلم کش فسادات سے داغدار ہے، جس کی وجہ سے ماضی میں امریکا اور یورپی ممالک نے ان کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔
جمہوریت کا زوال اور پریس فریڈم
مودی کے برسرِاقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں پریس فریڈم انڈیکس (صحافتی آزادی کی درجہ بندی) میں مسلسل تنزلی دیکھی گئی ہے۔ مودی مخالف صحافیوں اور دانشوروں کو جیلوں میں ڈالنا یا ’ گودی میڈیا‘ کے ذریعے ان کا ناطقہ بند کرنا مودی حکومت کا خاصا رہا ہے۔
عالمی اداروں کی رپورٹس
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسے بڑے بین الاقوامی ادارے بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر متواتر رپورٹس جاری کر چکے ہیں۔ کینیڈا اور امریکا کے اندر سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ملوث ہونے کے حالیہ انکشافات نے مودی کے جارحانہ اور مکارانہ چہرے کو دنیا کے سامنے پہلے ہی پوری طرح عیاں کر رکھا تھا۔
مغرب کی خاموشی کا ٹوٹنا اور بھارت کی سفارتی سبکی
ناروے کے اخبار کی جانب سے مودی کو اس انداز میں پیش کرنا محض ایک کارٹون نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سوچ کا عکاس ہے۔ مغربی حکومتیں عام طور پر چین کے خلاف بھارت کو ایک سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر استعمال کرنے کے لیے مودی کی فاشسٹ پالیسیوں پر آنکھیں بند کیے رکھتی ہیں، لیکن ’آفتن پوستن‘ جیسے بااثر یورپی اخبار کا مودی کو ’مکار اور سانپ‘کے روپ میں دکھانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب مغربی عوام اور میڈیا میں مودی کے ہندوتوا ایجنڈے کے خلاف شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
برانڈ مودی کا خاتمہ
مودی نے اربوں ڈالرز خرچ کر کے عالمی سطح پر جو اپنا ’سافٹ امیج‘ اور ’وشو گرو‘ (دنیا کا استاد) کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی تھی، یہ کارٹون اس کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ جب ایک وزیر اعظم کو عالمی سطح پر ’پریشان کن اور مکار شخص‘ کے طور پر ڈسکس کیا جائے، تو اس ملک کی سفارتی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔
اندرونی خوف کا عکاس
مودی حکومت کی نفرت اور مذہبی پولرائزیشن کی سیاست اب خود بھارت کے سیکیورٹی اور معاشی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ جو ملک اندرونی طور پر اپنے ہی شہریوں (مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں) کے خلاف نفرت کا زہر گھولے گا، وہ عالمی سطح پر کبھی بھی ایک قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں بن سکتا۔