پاکستان ریلویز کا عید الاضحیٰ پر 3 اسپیشل ٹرینیں چلانے کا اعلان

پاکستان ریلویز کا عید الاضحیٰ پر 3 اسپیشل ٹرینیں چلانے کا اعلان

پاکستان ریلویز نے عید الاضحیٰ کے موقع پر اپنے پیاروں کے پاس گھر جانے والے مسافروں کی سہولت کے لیے ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے 3 خصوصی عید ٹرینیں چلانے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق مسافروں کے شدید رش کو سنبھالنے کے لیے ان اسپیشل عید ٹرینوں میں 7 سے 8 اضافی کوچز (بوگیاں) شامل کی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو آرام دہ سفر کی سہولت مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان ریلویز کے ریزرویشن دفاتر کے نئے اوقات جاری کردیئے

ریلوے ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ شیڈول کے مطابق پہلی اسپیشل عید ٹرین 23 مئی کو صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوگی۔

دوسری عید ٹرین 24 مئی کو کراچی سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہوگی، جو براستہ ملتان، فیصل آباد اور سرگودھا اپنے روٹ کو مکمل کرے گی، جس سے وسطی پنجاب کے مسافروں کو بڑی سہولت ملے گی۔ اسی طرح، تیسری اسپیشل عید ٹرین 25 مئی کو عروس البلاد کراچی سے لاہور کے لیے روانہ کی جائے گی۔

جاری کردہ شیڈول کے مطابق پشاور کے لیے کراچی، لاہور یا کوئٹہ سے کسی بھی قسم کی کوئی عید اسپیشل ٹرین نہیں چلائی جائے گی، جس پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

عید اسپیشل ٹرینوں کی روایات اور پشاور کا روٹ

پاکستان ریلویز ہر سال عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کے موقع پر ملک بھر میں عید اسپیشل ٹرینیں چلاتا ہے تاکہ پردیسیوں کو اپنے گھروں کو پہنچنے میں آسانی ہو۔

سفری مانگ اور کراچی تا پشاور روٹ

کراچی، لاہور اور کوئٹہ ایسے صنعتی و کاروباری مراکز ہیں جہاں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے لاکھوں محنت کش، سرکاری ملازمین اور طلبا مقیم ہیں۔ ماضی میں ہمیشہ کراچی سے پشاور کے لیے خصوصی عید ٹرینیں چلائی جاتی تھیں کیونکہ یہ ریلویز کا سب سے مصروف اور منافع بخش روٹ مانا جاتا ہے۔

ٹریک اور انجنوں کے مسائل

حالیہ برسوں میں پاکستان ریلویز شدید مالی بحران، انجنوں کی کمی اور سیلاب کے بعد بعض مقامات پر ٹریکس کی مخدوش صورتحال کا شکار رہا ہے۔ پشاور کو نظر انداز کیے جانے کے پیچھے مبینہ طور پر آپریشنل چیلنجز اور بوگیوں کی کمی کو قرار دیا جا رہا ہے، تاہم باقاعدہ وجہ اب تک مبہم ہے۔

سیکیورٹی اور روٹ کی بندش

واضح رہے کہ پشاور روٹ کو چھوڑنے کا ایک پہلو سیکیورٹی خدشات یا ریلوے ٹریک کی جاری مرمت بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر یہ انتظامی مسئلہ تھا تو ریلویز کو متبادل انتظام کرنا چاہیے تھا کیونکہ پشاور کے مسافر ریلویز کے لیے ریونیو (آمدن) کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔

محدود ریسورسز

ٹرینوں میں صرف 7 سے 8 کوچز رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریلویز اس وقت شدید ترین رولنگ اسٹاک (بوگیوں اور انجنوں) کی کمی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے وہ ملک کے تمام بڑے شہروں کو کور کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

Related Articles