پاکستان آرمی کے غازیوں افسران اور سپاہیوں کی بے مثال شجاعت اور وطن عزیز کے لیے دی جانے والی قربانیوں کے اعتراف میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ایک پروقار اور پرجوش تقریبِ تقسیمِ اعزازات منعقد ہوئی۔
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشانِ امتیاز ملٹری، ہلالِ جرات، چیف آف ڈیفنس فورسز نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
اعلامیے کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مختلف آپریشنز کے دوران غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے اور قوم کے لیے نمایاں خدمات سرانجام دینے والے افسران، جوانوں اور دھرتی کے بیٹوں کے لواحقین کو اعلیٰ عسکری اعزازات نوازا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس باوقار تقریب میں مجموعی طور پر 50 ستارہ امتیاز (فوجی) اور 12 تمغہ بسالت دیے گئے۔
وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے لازوال شہدا کے خاندانوں نے ان کی وفات کے بعد (بعد از شہادت) دیے گئے تمغے انتہائی فخر، روایتی وقار اور تعظیم کے ساتھ وصول کیے۔
اس موقع پر شہدا اور غازیوں کے خاندانوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ ’شہدا اور غازی اس قوم کا پائیدار اور لازوال فخر ہیں۔ان کی عزت اور قربانی ہر سچے پاکستانی کے لیے ایک مقدس امانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری مادرِ وطن کا امن، استقلال اور سلامتی انہی غازیوں اور شہدا کی اعلیٰ ترین قربانیوں اور فرض شناسی کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کی مرہونِ منت ہے‘۔
انہوں نے شہدا کے لواحقین کی ثابت قدمی، اعلیٰ ظرفی اور وطن کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کی زبردست تعریف کی اور کہا کہ ان کی قربانیوں کا قرض کبھی نہیں اتارا جا سکتا۔
فیلڈ مارشل نے پاک فوج اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں (ایل ای ایز) کی آپریشنل تیاریوں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف ان کے عزم کو سراہا۔
انہوں نے دہشتگردوں کے خلاف جاری مسلسل اور کامیاب کوششوں پر فورسز کو شاباش دی اور اس عزم کو دہرایا کہ ’دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ مکمل قومی عزم اور یکسوئی کے ساتھ اس وقت تک جاری رہے گی، جب تک ملک کے طول و عرض میں پائیدار امن، تحفظ اور استحکام حاصل نہیں ہو جاتا‘۔
جی ایچ کیو میں اعزازات کی تقریب اور آپریشن عزمِ استحکام
پاک فوج میں مئی کے مہینے میں اعزازات دینے کی یہ تقریب ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کے سیکیورٹی ادارے ملک بھر میں دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔
شہداء کی یاد اور عسکری روایات
جی ایچ کیو میں ہونے والی یہ تقریب عسکری نظم و ضبط اور روایات کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد غازیوں اور شہدا کے وارثوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاک فوج اپنے بہادروں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتی۔
سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ
حالیہ مہینوں میں ضم شدہ اضلاع اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی آئی ہے۔ ان آپریشنز میں فرنٹ لائن پر لڑنے والے افسران اور سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے یہ تمغے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
عسکری قیادت کا دہشت گردی کے خلاف حتمی عزم
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بطور آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز ان اعزازات کو تقسیم کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی تمام عسکری قوتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے (پولیس، ایف سی، رینجرز) دہشت گردی کے خلاف ایک مربوط اور مشترکہ کمانڈ کے تحت کام کر رہے ہیں، جس سے آپریشنل نتائج بہتر ہو رہے ہیں۔
کاؤنٹر ٹیررازم بیانیے کی مضبوطی
فیلڈ مارشل کا یہ بیان کہ ’جنگ مکمل قومی عزم کے ساتھ جاری رہے گی‘ بیرونی اور اندرونی عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ عسکری قیادت کسی بھی قسم کے دباؤ یا سمجھوتے کے بغیر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ بیان سیکیورٹی فورسز کے مورال کو مہمیز کرتا ہے۔
شہدا کے خاندانوں کی سماجی تکریم
تمغہ بسالت اور ستارہ امتیاز کی تقسیم کے ذریعے شہدا کے خاندانوں کو جو عزت دی گئی ہے، وہ ففتھ جنریشن وارفیر کے اس دور میں پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کا ابلاغی توڑ ہے۔ جب قوم دیکھتی ہے کہ ریاست اپنے شہدا کو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے، تو وطن کے لیے قربانی دینے کا جذبہ مزید بیدار ہوتا ہے۔