50 ڈگری گرمی کا انوکھا حل ایئر کنڈیشنر نہیں، زمین کے نیچے گھر

50 ڈگری گرمی کا انوکھا حل ایئر کنڈیشنر نہیں، زمین کے نیچے گھر

شدید گرمی سے بچنے کے لیے جہاں دنیا بھر میں ایئر کنڈیشنرز کا استعمال عام ہے، وہیں آسٹریلیا کے دور دراز صحرائی علاقوں میں لوگ ایک منفرد طریقہ اپنا رہے ہیں۔ یہاں متعدد رہائشی اپنے گھر زمین کے اندر چٹانوں کو تراش کر بناتے ہیں، جہاں درجہ حرارت قدرتی طور پر سال بھر معتدل رہتا ہے۔

یہ انوکھا طرزِ زندگی آسٹریلیا کے آؤٹ بیک علاقے، خصوصاً کوبر پیڈی میں دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں صرف گھر ہی نہیں بلکہ گرجا گھر، ہوٹل، عجائب گھر، آرٹ گیلریاں اور دکانیں بھی زمین کے اندر قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ زیرِ زمین شہر دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ماہرین آثارِ قدیمہ کی بڑی کامیابی، مصر میں تاریخی شہر سامنے آ گیا

ماہرین کے مطابق زیرِ زمین تعمیرات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان میں گرمیوں میں ٹھنڈک اور سردیوں میں نسبتاً معتدل ماحول برقرار رہتا ہے، جس کے باعث بجلی اور ایئر کنڈیشنرز پر انحصار بھی کم ہو جاتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں ہیٹ ویوز کی شدت بڑھ رہی ہے، ایسے میں قدرتی ماحول سے ہم آہنگ یہ طرزِ تعمیر پائیدار رہائش کی ایک دلچسپ مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شائقین کے جوش نے زلزلہ پیما آلات کو بھی متحرک کر دیا

یہ منفرد طرزِ زندگی اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ بعض اوقات قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اختیار کیے گئے سادہ حل جدید ٹیکنالوجی سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

editor

Related Articles