پاکستان نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور اسٹریٹجک تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے گوادر میں ایک بڑے منصوبے کے تحت اسٹرٹیجک آئل ذخائر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبہ گوادر پورٹ پر مجوزہ “انرجی سٹی” کے تحت تیار کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ہنگامی حالات میں ملک کو توانائی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے تیل پیدا کرنے والے دوست ممالک کو اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے تاکہ بڑے پیمانے پر ذخیرہ گاہیں قائم کی جا سکیں۔ ان ذخائر کے استعمال کے حوالے سے یہ طے کیا گیا ہے کہ غیر معمولی حالات، جیسے جنگ یا قومی ایمرجنسی کی صورت میں پاکستان کو ان ذخائر کے استعمال کا پہلا حق حاصل ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں کویت نے خصوصی دلچسپی ظاہر کی ہے جبکہ دیگر خلیجی ممالک سے بھی رابطے جاری ہیں۔ بلوچستان میں اس منصوبے کے لیے موزوں زمین کی نشاندہی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کام کر رہی ہے تاکہ بندرگاہی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
منصوبے کے تحت صرف تیل کے ذخائر ہی نہیں بلکہ ایل این جی اور ایل پی جی ٹرمینلز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ توانائی کے مختلف ذرائع کو ایک ہی مرکزی نظام کے تحت منظم کیا جا سکے۔ اس اقدام کو پاکستان کی توانائی سکیورٹی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور نے غیر ملکی وفود کو پاکستان کے ساحلی اور لاجسٹکس منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک خطے میں توانائی اور تجارت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا تاکہ جدید انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں۔