ترکیہ کی سیاست میں بڑا ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے جہاں عدالت نے اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کی قیادت کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر اوزگُر اوزل کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک عدالت نے اپوزیشن جماعت کے اندر ہونے والے قیادت کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹ خریدنے کے الزامات کی بنیاد پر فیصلہ سناتے ہوئے اوزگُر اوزل کی سربراہی ختم کر دی۔ عدالت نے سابق چیئرمین کمال قلیچ دار اوغلو کو دوبارہ جماعت کی قیادت سونپنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اوزگُر اوزل پر الزام تھا کہ پارٹی انتخابات کے دوران ضابطوں کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور بعض ووٹوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ عدالتی فیصلے کے بعد ترکیہ کی اپوزیشن جماعت میں نئی سیاسی ہلچل شروع ہو گئی ہے۔
اپوزیشن رہنما اوزگُر اوزل نے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے اعلیٰ عدالت سے رجوع کر لیا ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ پارٹی اور نہ ہی ملک کسی سیاسی دباؤ یا بغاوت کے سامنے جھکے گا۔
دوسری جانب برطانوی میڈیا کے مطابق بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عدالتی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ فیصلے سے ترکیہ کی سیاست میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی سیاسی اختلافات اور اندرونی کشمکش کا سامنا کر رہا ہے۔