یہاں زیر زمین دریا بہتا ہے جبکہ بعض مقامات پر دھند اور بادلوں جیسا مقامی موسم بھی دیکھا گیا ہے، جو اس غار کو مزید پراسرار بنا دیتا ہے۔غار کے کچھ بڑے حصے 200 میٹر سے بھی زیادہ اونچے ہیں، جہاں بڑے بڑے عمارتیں بھی آسانی سے سما سکتی ہیں۔
اسے 1991 میں دریافت کیا گیا اور 2009 میں اس کی باقاعدہ کھوج کی گئی، جس کے بعد یہ دنیا کے سب سے غیر معمولی قدرتی عجائبات میں شمار ہونے لگا۔یہ غار آج بھی مہم جوؤں اور سائنسدانوں کے لیے ایک پراسرار اور دلچسپ دنیا کی حیثیت رکھتا ہے۔