بلوچستان کے ضلع پشین کے سرحدی علاقے میں محکمہ لائیوسٹاک کی 400 سے زائد نایاب نسل کی بھیڑیں چھینے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق مسلخ کے علاقے میں قائم سرکاری فارم پر مسلح افراد نے ملازمین کو یرغمال بنایا اور بھیڑیں ہانکتے ہوئے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔ اس فارم پر قرہ قل نسل کی بھیڑوں کی افزائش کی جاتی تھی، جن کی کھالیں قرہ قلی ٹوپی یا جناح کیپ بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
بی بی سی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ مسلخ فارم میں پیش آنے والے واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق بلوچستان میں کسی سرکاری فارم سے اتنی بڑی تعداد میں بھیڑیں چھیننے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
محکمہ لائیوسٹاک کے وزیر میر فیصل خان جمالی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ لائیوسٹاک اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔
واقعے کی ایف آئی آر محکمہ لائیوسٹاک کے متعلقہ اسٹاک اسسٹنٹ عبدالمنان کی مدعیت میں پولیس تھانہ سلطان پشین میں درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعات 365 اور 397 کے تحت درج کی گئی، جس کے مطابق یہ واقعہ 16 مئی کو پیش آیا۔
ایف آئی آر کے مطابق چھ مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر ضلع پشین کے سرحدی علاقے کوڑائی کیمپ مسلخ آئے، جہاں انہوں نے محکمہ لائیوسٹاک کے دو ملازمین کو یرغمال بنایا۔ بعد ازاں مسلح افراد بھیڑوں اور یرغمال بنائے گئے دونوں ملازمین کو لے کر ضلع کوئٹہ کے علاقے پنجپائی میں داخل ہوئے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مسلح افراد نے پنجپائی میں دونوں ملازمین کو چھوڑ دیا، جبکہ 406 بھیڑوں کو غوغاڑ کے پہاڑی علاقے کی جانب لے گئے۔