آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ، سیکیورٹی ماہرین کے مودی سرکار اور آر ایس ایس  سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات

آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ، سیکیورٹی ماہرین کے مودی سرکار اور آر ایس ایس  سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام ایک انتہائی اہم اور خصوصی ’نیشنل سیکیورٹی اینڈ اسٹریٹجک لیڈرشپ 2026 ورکشاپ‘ کا انعقاد کیا گیا ہے۔

اعلیٰ سطح کی اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد ملک کے تعلیمی رہنماؤں کو قومی سلامتی اور خطے کی موجودہ اسٹریٹجک صورتحال سے آگاہ کرنا تھا۔

ورکشاپ میں ملک بھر کی 200 سے زیادہ سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈینز اور سینیئر پروفیسرز نے بھرپور شرکت کی، جس نے اس تقریب کو ملکی تاریخ کی اہم ترین فکری بیٹھکوں میں سے ایک بنا دیا ہے۔

ورکشاپ کے دوران لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عامر ریاض، ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے شرکا کے ساتھ ایک خصوصی اور تفصیلی نشست کی۔ اس فکری سیشن میں ہمسایہ ملک بھارت میں تیزی سے جڑ پکڑتی انتہا پسند سوچ ’ہندوتوا‘ سے متاثرہ بھارتی سیاست اور اس کے خطے پر اثرات کا احاطہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر ایران پہنچ گئے، آئی ایس پی آر

نشست کے دوران بھارتی سیاست کے اسٹریٹجک رجحانات کا گہرا فکری اور نظریاتی تجزیہ پیش کیا گیا، جس میں تعلیمی ماہرین نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے بھارتی حکومت کے ہولناک چہرے کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ مظالم اور ان کا معاشی و سماجی استحصال اب کوئی غیر معمولی بات نہیں رہی بلکہ یہ وہاں کا روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے۔

انہوں نے سنگین انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی جیسی انتہا پسند تنظیموں کو اپنے سیاسی ایجنڈے اور نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دینے کے لیے اگر عام عوام کا قتل و غارت بھی کرنا پڑے، تو ان کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے مزید کہا کہ بھارت دنیا کے سامنے خود کو ایک سیکولر اور جمہوری ملک کے چہرے کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔اندرونِ خانہ اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ انتہائی ظلم و بربریت کا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والی ان زیادتیوں اور پرتشدد کارروائیوں کو نہ صرف مودی حکومت بلکہ وہاں کی عدلیہ کی بھی مکمل سرپرستی حاصل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مظلوموں کو انصاف ملنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں:معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ، قومی جذبوں کو گرما دینے والا آئی ایس پی آر کا تیار کردہ نیا ملی نغمہ جاری

نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکا، جن میں ملک کے نامور دانشور اور اساتذہ شامل تھے، نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور خود بھارت کے اندر مسلمانوں کے خلاف بھارتی حکومت کے ناپاک عزائم کو عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہذب دنیا اور عالمی برادری کے لیے بھارت کا یہ رویہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔

بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈا اور خطے کی سلامتی

بھارت میں 2014 میں بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے ’ہندوتوا‘ (ہندو بالادستی) کے نظریے کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی ہے۔ آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کے مائنڈ سیٹ کے تحت بھارت کو ایک خالص ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

اس ایجنڈے کے تحت شہریت کے متنازع قوانین (سی اے اے)، بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر، اور گائے کے نام پر مسلمانوں کی لنچنگ (مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل) جیسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

پاکستان کا عسکری اور سیاسی قیادت کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ بھارت کی یہ فاشسٹ سوچ نہ صرف خود بھارت کے اندر رہنے والی کروڑوں اقلیتوں کے لیے خطرہ ہے، بلکہ یہ پورے جنوبی ایشیا کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے تعلیمی شعبے کے سربراہان کے لیے اس ورکشاپ کا انعقاد اس کڑی کی ایک اہم کڑی ہے تاکہ ملک کی نوجوان نسل کو اساتذہ کے ذریعے نظریاتی طور پر مضبوط اور علاقائی چیلنجز سے باخبر رکھا جا سکے۔

تعلیمی قیادت کی شمولیت اور بھارتی بیانیے کا توڑ

ملکی تاریخ میں پہلی بار 200 سے زیادہ جامعات کے وائس چانسلرز اور پروفیسرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اب قومی سلامتی کی جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ بیانیے (نیریٹو) کی جنگ ہے۔ اساتذہ جب ان حقائق کو کلاس رومز تک لے جائیں گے تو نوجوان نسل میں سیکیورٹی امور کا شعور بیدار ہوگا۔

بھارتی ’سیکولرازم‘ کا جنازہ

تجزیہ کاروں کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کا یہ نقطہ انتہائی اہم ہے کہ بھارت کا عدالتی نظام بھی اب ہندوتوا کے زیرِ اثر آ چکا ہے۔ جب کسی ملک کی سپریم کورٹ اور نچلی عدالتیں اقلیتوں کے قاتلوں کو رہا کرنے لگیں اور مظلوموں کو مجرم بنا دیں، تو اس ملک کا عالمی سطح پر ‘سیکولر’ ہونے کا ڈھونگ برقرار نہیں رہ سکتا۔

عالمی برادری کی خاموشی پر سوال

ورکشاپ کے شرکا نے درست طور پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کو نشانہ بنایا۔ مغرب اپنے تجارتی مفادات کی وجہ سے بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے، جو کہ ایک خطرناک عالمی دہرا معیار ہے۔

Related Articles