سی ای ایس 2026 میں ایک غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ہیونڈے نے روایتی گاڑیوں کے بجائے روبوٹکس کی دنیا پر اپنی توجہ مرکوز کر دی۔
کمپنی کی جانب سے بوسٹن ڈائنامکس کے انسان نما روبوٹ ’’ایٹلس‘‘ کو پہلی بار عوامی سطح پر پیش کیا گیا، جس نے ایونٹ میں موجود شرکاء کو حیران کر دیا۔ وہ لوگ جو ہیونڈے سے نئی گاڑیوں کی نمائش کی توقع لے کر آئے تھے، ان کا استقبال اس بار جدید روبوٹس نے کیا۔
پریس کانفرنس میں گاڑیوں کے بجائے بوسٹن ڈائنامکس کی روبوٹک ٹیکنالوجی اور ایجادات مرکزی موضوع رہیں۔ ایونٹ کا آغاز اس وقت مزید دلچسپ ہو گیا جب “اسپاٹ” روبوٹس نے ایک منظم ڈانس پرفارمنس پیش کی، جس نے ماحول کو مکمل طور پر روبوٹکس کے رنگ میں رنگ دیا۔
ایٹلس کی پہلی عوامی نمائش اس ایونٹ کا سب سے اہم لمحہ تھا۔ اگرچہ یہ روبوٹ پہلے بھی سوشل میڈیا اور مختلف ویڈیوز میں دیکھا جا چکا تھا، تاہم وہ اب تک صرف لیبارٹری ماحول تک محدود تھا۔ سی ای ایس 2026 میں پہلی بار اسے اسٹیج پر آزادانہ طور پر چلتے ہوئے دیکھا گیا، جو اس کی ترقی میں ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
نمائش کے دوران ایٹلس کو زمین سے ایک منفرد انداز میں اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔ بوسٹن ڈائنامکس کے مطابق یہ حرکت انجینئرڈ ڈیزائن کا حصہ ہے، جس کا مقصد انسانی حرکات کی مکمل نقل نہیں بلکہ زیادہ مؤثر اور عملی روبوٹک کارکردگی حاصل کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں روبوٹکس اور آٹوموٹیو انڈسٹری کا امتزاج مزید تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔