فیلڈ مارشل سید عاصم مینر اور عباس عراقچی کے درمیان رات دیر تک مذاکرات ہوئے، انتہائی حساس معالات زیر بحث رہے، ایرانی میڈیا

فیلڈ مارشل سید عاصم مینر اور عباس عراقچی کے درمیان رات دیر تک مذاکرات ہوئے، انتہائی حساس معالات زیر بحث رہے، ایرانی میڈیا

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگ کے گہرے سائے کے خاتمے کے لیے پاکستان نے سفارتی محاذ پر ایک بار پھر اپنا تاریخی اور مرکزی کردار سنبھال لیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعہ کو ہنگامی دورے پر تہران پہنچے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ترین ملاقات کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اسلام آباد کی جانب سے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ثالثی اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق یہ اہم ترین ملاقات جمعہ کی رات کو ہوئی جو انتہائی حساس معاملات پر گفتگو کے باعث ’رات دیر تک جاری رہی‘ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جیسے ہی ایران کے لیے روانہ ہوئے، بین الاقوامی اسٹاک مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی

رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے اور فروری کے آخر میں ایران پر شروع ہونے والی امریکی اسرائیلی مشترکہ جنگ کے خاتمے کے لیے تازہ ترین سفارتی اقدامات اور تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

تنازع کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں طویل نشستیں کیں، جہاں ایرانی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ اور پاکستان کے وزیر داخلہ کے مابین بھی اہم ملاقاتیں عمل میں آئی ہیں۔

پاکستان نے فروری کے آخر میں ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں کے بعد سے ہی خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے ثالثی کا کردار بڑھا دیا ہے اور اسلام آباد اس وقت تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ قریبی اور براہِ راست رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ایک قطری وفد بھی اس وقت تہران میں موجود ہے اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام جاری مذاکرات میں ’پاکستان مرکزی ثالث‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اس سفارتی گہما گہمی کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سویڈن کے شہر ہیلسنگبورگ میں نیٹو وزرا کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ معاہدے کی طرف کچھ پیش رفت دیکھی ہے، لیکن ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:ریاست اور عوام کی یکجہتی دشمن قوتوں کے عزائم ناکام بنائے گی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’کچھ پیش رفت ہوئی ہے، میں اسے نہ تو بڑھا چڑھا کر کہوں گا اور نہ ہی کم تر سمجھوں گا، لیکن ہم ابھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے، امید ہے ہم معاہدے پر پہنچ جائیں گے‘۔

ایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی نے مذاکرات کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران اس وقت واشنگٹن کی جانب سے دی گئی نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ کچھ متنازع معاملات پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن جب تک تمام اسٹرٹیجک امور حل نہیں ہو جاتے، تب تک کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے جمعرات کے بیانات کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے اس مخصوص آبنائے (اسٹریٹ) کے لیے ٹولنگ سسٹم بنانے کے منصوبے امریکا کے لیے ’ناقابلِ قبول‘ ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران اور واشنگٹن کے مابین پاکستان کی روایتی سفارت کاری کو آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی کردار برقرار رکھا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 8 اپریل کو بھی ایک عارضی جنگ بندی کے لیے کامیاب ثالثی کی تھی، جسے ایرانی حکام اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی جانب سے عوامی سطح پر سراہا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار نے ترکیہ کی ’انادولو نیوز ایجنسی‘ کو بتایا کہ فیلڈ مارشل کا یہ حالیہ دورہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو حتمی شکل دینے اور دیگر ’اہم علاقائی مسائل‘ پر مرکوز تھا۔ اگرچہ ایران واشنگٹن کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم ایرانی حکام نے فی الحال فوری طور پر کسی بڑے بریک تھرو کی توقعات کو کم ظاہر کیا ہے۔

فروری 2026 کی جنگ اور پاکستان کا ثالثی کردار

رواں سال 2026 کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اس وقت انتہائی نہج پر پہنچ گئی جب فروری کے آخری ہفتے میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے اندرونی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں ایک وسیع البنیاد جنگ کا آغاز ہو گیا۔

 اس تنازع کے نتیجے میں عالمی معیشت اور خاص طور پر تیل کی ترسیل کے راستے شدید خطرے میں پڑ گئے۔ پاکستان نے اپنے جغرافیائی اور اسٹرٹیجک محل وقوع کے باعث فوری طور پر متحرک ہونے کا فیصلہ کیا، کیونکہ ایران کے ساتھ پاکستان کی طویل سرحد لگتی ہے اور وہاں کی بدامنی براہِ راست پاکستان پر اثرانداز ہوتی ہے۔

پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بحران کے آغاز ہی سے دونوں اطراف کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں شروع کر دیں، جس کا پہلا بڑا نتیجہ 8 اپریل 2026 کو ایک مختصر جنگ بندی کی صورت میں نکلا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنے دوسرے صدارتی دور میں خطے سے امریکی فوج کے انخلا اور جنگوں کے خاتمے کے حامی رہے ہیں، نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ان کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا تھا۔ موجودہ دورہ تہران اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ عارضی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کیا جا سکے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے اسٹرٹیجک پہلو

موجودہ سفارتی منظرنامے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان کا کردار اس خطے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے قطر اور دیگر عرب ممالک کے متبادل سفارتی چینلز کے باوجود، ایران اور امریکا دونوں کے لیے پاکستان سب سے قابلِ اعتماد ملک بن کر ابھرا ہے۔

 پاکستان کے عسکری تعلقات جہاں واشنگٹن کے ساتھ مضبوط ہیں، وہیں تہران کے ساتھ برادرانہ اور سیکیورٹی روابط انتہائی گہرے ہیں، یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے فیصلوں کو دونوں اطراف اہمیت دے رہی ہیں۔

امریکی انتظامیہ کا بدلا ہوا مؤقف

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا نیٹو اجلاس میں یہ بیان کہ ’پیش رفت ہوئی ہے‘ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اب اس جنگ سے باعزت واپسی کا راستہ چاہتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے، بشرطیکہ ایران مخصوص بحری راستوں اور آبنائے پر اپنے ٹولنگ سسٹم کے جارحانہ منصوبوں سے پیچھے ہٹے۔

علاقائی استحکام اور پاکستان کے مفادات

پاکستان کے لیے یہ جنگ بندی اس لیے ضروری ہے کیونکہ وہ ملک کے اندر معاشی استحکام اور سی پیک (سی پیک) کے منصوبوں کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ ایران میں طویل جنگ کی صورت میں پاکستان کو پناہ گزینوں کی آمد اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس جنگ کا فوری خاتمہ چاہتی ہے۔

Related Articles