سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں عبرتناک شکست، فتنہ الہندوستان دہشتگردوں کی جعفر ایکسپریس کے بے گناہ مسافروں کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی ناکام

سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں عبرتناک شکست، فتنہ الہندوستان دہشتگردوں کی جعفر ایکسپریس کے بے گناہ مسافروں کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی ناکام

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مسلسل عبرتناک شکست اور بھاری جانی و مالی نقصانات سے بوکھلا کر دہشتگردوں نے ایک بار پھر معصوم شہریوں کو بربریت کا نشانہ بنانے کی ناپاک کوشش کی ہے۔

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کو مسافر ٹرین ’جعفر ایکسپریس‘ کو فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے ایک بار پھر اپنا ’سافٹ ٹارگٹ‘ چنا، خودکش حملے کا نشانہ بنانے کی گھناؤنی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ایک زوردار دھماکہ ہوا اور 10 افراد زخمی ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی ’جعفر ایکسپریس‘ سے ٹکرانے کی کوشش کی، اس خود کش دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ مسافر ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور ان میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب سیکیورٹی اداروں کی کڑی نگرانی اور بروقت کارروائی، جعفر ایکسپریس بڑے سانحے سے بچ گئی

حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر بڑے پیمانے پر ریسکیو اور کلیئرنس آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس وحشیانہ حملے کا اصل ہدف ٹرین میں سوار معصوم شہری تھے، جس کی وجہ سے سفر کرنے والی بے گناہ خواتین، معصوم بچوں اور بزرگ مسافروں کی جانیں شدید خطرے میں پڑ گئیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے ٹرین کے انجن اور بوگیوں سمیت اطراف کے پورے علاقے اور ریلوے ٹریک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

حکام نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس بزدلانہ کارروائی میں بیرونی سرپرستی میں چلنے والے خطرناک نیٹ ورک ’فتنہ الہندوستان‘ سے وابستہ دہشتگرد ملوث ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں بلوچستان بھر میں ان دہشتگرد عناصر کے خلاف جو تادیبی کارروائیاں کی ہیں، ان میں ہونے والی مسلسل ناکامیوں اور ذلت آمیز نقصانات کا بدلہ لینے کے لیے دہشتگردوں نے اس بزدلانہ کارروائی کا سہارا لیا ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگرد اب اس قابل نہیں رہے کہ وہ میدانِ جنگ میں براہِ راست ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ کر سکیں، اسی لیے وہ اپنی عبرتناک شکست کو چھپانے کے لیے ’سافٹ ٹارگٹس‘ (نرم اہداف) یعنی عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر صوبے میں خوف و ہراس اور افواہیں پھیلانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:بلوچستان میں امن دشمن عناصر کے گرد گھیرا تنگ، سکیورٹی فورسز کی فتنہ الہندوستان کیخلاف کامیاب کارروائیاں جاری

دھماکے کے فوری بعد پاک فوج، فرنٹیر کانسٹیبلری (ایف سی) اور پولیس کی بھاری نفری نے پورے علاقے کو اپنے سخت گھیرے میں لے لیا۔ امدادی ٹیمیں اور پاک فوج کے جوان متاثرہ ٹرین کی جلتی ہوئی بوگیوں سے مسافروں کو بحفاظت نکالنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے کوئٹہ کے قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکے کی اصل نوعیت، بارودی مواد کی مقدار اور حملے میں ملوث سہولت کاروں کی شناخت کے لیے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے فوری بعد کوئٹہ شہر اور اس کے تمام داخلی و خارجی راستوں اور گرد و نواح میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے ناکہ بندی سخت کر دی گئی ہے۔

صوبائی اور عسکری حکام نے اس حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے معصوم شہریوں کے خلاف ایک انتہائی بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے گھناؤنے واقعات پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے غیور عوام کے حوصلے کسی صورت کمزور نہیں کر سکتے، جو دہشتگردی اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کے خلاف اپنی افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر متحد کھڑے ہیں۔

’فتنہ الہندوستان‘ اور جعفر ایکسپریس پر ماضی کے حملے

بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنانا ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی ایجنسیوں کے پے رول پر کام کرنے والے دہشتگردوں کا پرانا ہتھکنڈا رہا ہے۔

جعفر ایکسپریس کوئٹہ کو مچھ، سکھر، اور پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے پشاور سے جوڑتی ہے، جو صوبے کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے سب سے سستی اور اہم ترین سفری لائف لائن ہے۔ اس ٹرین پر حملہ دراصل بلوچستان کا پاکستان کے دیگر صوبوں سے رابطہ کاٹنے کی ایک گہری سازش ہے۔

موجودہ دور میں سیکیورٹی فورسز نے جب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشتگردوں کے ٹھکانوں، ان کے تربیتی کیمپوں اور مالی معاونت کے نیٹ ورکس کو تباہ کیا ہے، ان کے کمانڈرز یا تو مارے جا چکے ہیں یا فرار ہونے پر مجبور ہیں۔

’فتنہ الہندوستان‘ کا نام ان انتہا پسند گروپوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو سرحد پار بیٹھے اپنے آقاؤں کے اشارے پر پاکستان کی معاشی ترقی اور سی-پیک کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ جب یہ عناصر فرنٹ لائن پر فوج کا سامنا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، تو یہ ریلوے ٹریکس اور مسافروں پر حملے کر کے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا منفی امیج پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دہشتگردوں کی مایوسی اور سیکیورٹی فورسز کا فول پروف رسپانس

کوئٹہ میں اتوار کو ہونے والے اس سنگین حملے کا اگر اسٹرٹیجک اور دفاعی نقطہ نظر سے تجزیہ کیا جائے تو درج ذیل پہلو واضح ہوتے ہیں

براہِ راست جنگ میں ناکامی کا اعتراف

دہشتگردوں کی جانب سے مسافر ٹرین پر خودکش حملہ اس بات کا واضح اعتراف ہے کہ وہ اب سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں یا قافلوں پر حملہ کرنے کی سکت کھو چکے ہیں۔ یہ حملہ ان کی مضبوطی نہیں بلکہ ان کی آخری سانسیں لیتی ہوئی ’شدید مایوسی‘کو ظاہر کرتا ہے۔

قومی یکجہتی پر وار

خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کا مقصد عوام کے اندر ریاست کے خلاف عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہے۔ تاہم، ایسے بزدلانہ اقدامات کے نتیجے میں عوام ان دہشتگردوں کے نظریے سے مزید متنفر ہو جاتے ہیں اور ان کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ریسکیو اور ہنگامی اقدامات

دھماکے کے فوری بعد جس تیزی سے سیکیورٹی فورسز نے ریسکیو آپریشن شروع کیا اور بوگیوں سے لوگوں کو نکالا، اس نے جانی نقصان کو مزید بڑھنے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اب ریلوے انتظامیہ کے لیے چیلنج ہوگا کہ وہ ٹریک کی مرمت کر کے مواصلاتی نظام کو جلد از جلد بحال کرے۔

انٹیلیجنس نیٹ ورک کو مزید تیز کرنے کی ضرورت

فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورک کا کوئٹہ جیسے اہم شہر کے قریب مسافر ٹرین تک رسائی حاصل کر لینا اس بات کی تقاضا کرتا ہے کہ ریلوے اسٹیشنز اور پٹریوں کی نگرانی کے لیے تھرمل کیمروں اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے تاکہ ایسے نیٹ ورکس کو حملے سے قبل ہی کچلا جا سک

Related Articles