دشمن کو دُنیا میں قیام امن کی پاکستانی کوششیں ہضم نہ ہوئیں، پاکستان کا ابھرتا ہوا عالمی قد، کوئٹہ چمن دھماکہ ازلی دشمن کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ
Home - آزاد انتخاب - دشمن کو دُنیا میں قیام امن کی پاکستانی کوششیں ہضم نہ ہوئیں، پاکستان کا ابھرتا ہوا عالمی قد، کوئٹہ چمن دھماکہ ازلی دشمن کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ
پاکستان کی دنیا میں ابھرتی ہوئی مثبت ساکھ، اسٹرٹیجک اہمیت اور عالمی امن کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششیں مکار اور ازلی دشمن بھارت کو ہضم نہیں ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان عالمی افق پر ایک امن کار بن کر ابھرتا ہے، دشمن اپنی پالی ہوئی پراکسیز کو متحرک کر کے ملک میں بدامنی پھیلانے کی مذموم کوششیں شروع کر دیتا ہے۔
موجودہ سفارتی منظرنامہ اس کی واضح ترین مثال ہے، جہاں ایک طرف پاکستان عالمی سطح پر جنگیں رکوانے کے لیے سرگرم ہے، تو دوسری طرف دشمن اس امن کو تہہ و بالا کرنے کے لیے بلوچستان جیسے حساس علاقے میں اپنی پراکسیز کو متحرک کر کے معصوم شہریوں کا خون بہا رہا ہے۔
عالمی امن مشن، سول اور عسکری قیادت کی حکمتِ عملی
اس وقت دنیا بھر میں قیامِ امن اور مسلم امہ کو بڑے بحرانوں سے نکالنے کے لیے پاکستان کی قیادت کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ دنیا میں تباہ کن جنگوں کو روکنے کے لیے اس وقت پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے اہم دورے پر تھے، جہاں وہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ تباہ کن تصادم اور جنگ کو رکوانے کے لیے انتھک سفارتی سعی کر رہے ہیں اور بین الاقوامی سفارتی حلقوں کے مطابق وہ اس اہم مشن میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف اس وقت چین کے دورے پر ہیں، جہاں وہ اقتصادی استحکام، بلوچستان میں سی پیک کے اگلے فیز اور خطے کی اسٹرٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ ان دونوں بڑی سفارتی سرگرمیوں سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام اور وقار انتہائی بلند ہو رہا ہے۔
کوئٹہ چمن پھاٹک سانحہ، دشمن کی مایوسی کا ثبوت
عین انہی لمحوں میں جب پاکستان کی ساکھ عروج پر ہے، ہمارا ازلی دشمن بھارت اپنی مذموم پراکسی کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندرونی امن اور استحکام پر وار کر رہا ہے۔
اس کی واضح اور تازہ ترین مثال اتوار کے روز کوئٹہ چمن پھاٹک کے قریب مسافر ٹرین کو نشانہ بنانے کی بزدلانہ کوشش ہے، جہاں ایک بار پھر معصوم اور بے گناہ شہریوں کو سافٹ ٹارگٹ بنایا گیا۔ اس حملے میں جہاں ٹرین کو نقصان پہنچا، وہاں سب سے بڑا المیہ ایک مقامی رہائشی عمارت میں پیش آیا جہاں بارود کے اس وار نے ایک ہنستا بست پورا بلوچ خاندان ہمیشہ کے لیے اجاڑ دیا۔
دہشت گردوں کے جھوٹے بیانیے کا خاتمہ اور عوامی ردِعمل
اس حملے میں ایک خاتون اور 2 معصوم بچوں سمیت پورے بلوچ خاندان کی شہادت نے عسکریت پسندوں کے’آزادی کی جنگ‘ کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ جب ایک عام اور غیر جانبدار بلوچ شہری یہ دیکھتا ہے کہ ان کے اپنے معصوم بچے اور خواتین عسکریت پسندوں کے بارود سے محفوظ نہیں، تو ان شرپسندوں کی رہی سہی مقامی ہمدردی اور بیانیہ بھی مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس بار جوابی ردِعمل بالکل الٹ آیا ہے۔ عوام نے سیدھا حملہ آوروں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
بی وائی سی اور بی ایل اے کا گٹھ جوڑ بے نقاب
اس سانحے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب مقامی آبادی اور غیور بلوچوں کی جانب سے کھل کر ’بلوچ یکجہتی کمیٹی‘ کا نام لیا جا رہا ہے۔ عوامی سطح پر یہ آوازیں اٹھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ عام عوام اب اس سچائی کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ کون سے سیاسی اور سماجی نیٹ ورکس، انسانی حقوق اور دھرنا سیاست کی آڑ میں، بندوق اٹھانے والے دہشت گردوں کو فکری، بیانیاتی اور لاجسٹک سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں۔
فتنہ الہندوستان (بھارتی پراکسیز) کا بنیادی مقصد بلوچستان میں ایک ایسا انسانی بحران اور نسلی خلیج پیدا کرنا تھا جس سے ریاست اور عوام کے درمیان دوریاں بڑھیں، لیکن عوام کے اس ابھرتے ہوئے شعور اور دہشتگردوں کو مسترد کرنے کے فیصلے نے اس سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ عوامی بیداری دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور سیکیورٹی اداروں کے لیے سب سے بڑا پلس پوائنٹ ہے۔